بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تخارج


سوال

زید کا انتقال ہو ا، اس نے اپنے ورثہ میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چھوڑا ہے، زید کے ترکہ میں کچھ مکان، دکان، زمین اور کیش ہے، اب اگر مکان ،دکان اور زمین کی مارکیٹ ویلیو لگوانے کے بعد جو رقم بنی اور موجودہ کیش جمع کیا جائے تو بیٹیوں کے حصے میں تقریباً 50، 50 لاکھ اور بیٹے کے حصے میں ایک کروڑ آتا ہے، اب اگر بیٹیاں یہ کہتی ہیں کہ ہمارے حصے میں آنے والے 50 لاکھ میں سے ہمیں 10 لاکھ دے دو باقی ہم اپنا حصہ چھوڑتی ہیں تو کیا اس طرح صلح کے ذریعے ترکہ کی تقسیم جائز ہوگی؟

جواب

 شریعتِ مطہرہ نے ورثاء کے  حصے  مقرر کیے ہیں ،اورمال  وراثت میں   ہر وارث کا حق ہے ،لیکن اگر کوئی  وارث اپنے شرعی مقررہ حصےکو جانتے ہوئے اس  کےعوض کچھ مال  پر صلح کرنا چاہے،جب کہ بقیہ تمام ورثاء اس پر راضی ہوں تو ایسا کرنا شریعت کی  رو سے  بالکل جائز ہے ،جیسا  كہ حضرت تماضر بنت أصبغ رضی اللہ عنہا(زوجۂ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ )  کے بارے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے شرعی حصے کے عوض، (83000)تریاسی ہزار دراہم یا دنانیر پر صلح کی تھی   ، اس صورت کو  اصطلاح ِمیراث میں   "تخارج "کہتے ہیں ،لہٰذا صورت مسئولہ میں جب  بیٹیوں میں سے ہر ایک کو اپنا شرعی مقررہ حصہ معلوم ہے اور وہ کچھ رقم لے کر باقی سے دست دستبردار ہونا چاہتی ہیں تو ایسا کرنا جائز ہوگا، البتہ یہ ضروری ہے کہ یہ عمل بہنوں کی دلی رضامندی سے ہو ۔

فتاوی شامی میں ہے : 

"شرع في مسألة ‌التخارج فقال (ومن صالح من الورثة) والغرماء على شيء معلوم منها (طرح) أي اطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) فتصح منه كزوج وأم وعم فصالح الزوج على ما في ذمته من المهر وخرج من بين الورثة فاطرح سهامه من التصحيح وهي ثلاثة واقسم باقي التركة وهي ما عدا المهر بين الأم والعم أثلاثا بقدر سهامهما من التصحيح قبل ‌التخارج وحينئذ يكون سهمان للأم وسهم للعم ولا يجوز أن يجعل الزوج كأن لم يكن لئلا ينقلب فرض الأم من ثلث أصل المال إلى ثلث أصل الباقي لأنه حينئذ يكون للأم سهم وللعم سهمان وهو خلاف الإجماع قاله السيد وغيره."

(كتاب الفرائض،باب التخارج، ص:811،ج:6،ط:سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"والأصل في جواز التخارج ما روى محمد بن الحسن في الأصل في أول كتاب الصلح عن أبي يوسف عمن حدثه عن عمرو بن دينار عن ابن عباس: أن إحدى نساء ‌عبد ‌الرحمن بن عوف صالحوها على ثلاثة وثمانين ألفا على أن أخرجوها من الميراث."

(كتاب الصلح،فصل في التخارج،ص:440،ج:8،ط:دار الفكر)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"وعن عمرو بن دينار أن إحدى نساء ‌عبد ‌الرحمن بن عوف ‌صالحوها على ثلاثة وثمانين ألفا على أن أخرجوها من الميراث وهي ‌تماضر كان طلقها في مرضه فاختلف الصحابة - رضوان الله عليهم - في ميراثها منه، ثم ‌صالحوها على الشطر وكان له أربع نسوة فحظها ربع الثمن وهو جزء من اثنين وثلاثين جزءا فصالحوها على نصف ذلك وهو جزء من أربعة وستين جزءا وأخذت بهذا الحساب ثلاثة وثمانين ألفا."

(كتاب الصلح،ص:136،ج:20،ط:دار المعرفة،بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144508101062

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں