بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1442ھ 21 جون 2021 ء

دارالافتاء

 

تکبیراتِ انتقال کا طریقہ اور وقت


سوال

تکبیر انتقالیہ کسے  کہتے  ہیں اور اس کا وقت کب سے کب تک ہوتا ہے ؟

جواب

تکبیراتِ انتقال نماز میں  ایک رُکن سے دوسرے رُکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیرات کو کہتے ہیں ، تکبیرات ِ انتقال کا طریقہ اور اس کا وقت یہ ہے کہ ہیئت  تبدیل کرتے ہوئے تکبیر کہے اور جب دوسرے رکن کی ہیئت تک پہنچے تو پہنچنے پر تکبیر ختم کرے،یعنی ایک رکن سے دوسرے رکن میں منتقل ہونے کے درمیانی عرصہ کے اندر اداکی جائے ،مثلا ً رکوع کےلیے جھکنے کی ابتدا  میں ’’اللہ اکبر ‘‘ کی ابتدا  ہو اور رکوع میں پہنچتے ہی  اس کی انتہا  ہوجائے ،رکوع میں  پہنچ جانے کے بعدتکبیر کہنا خلافِ  سنت اور مکروہ ہے ۔

وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين :

"(قوله: ثم يكبر) أتى بثم للإشعار بالاطمئنان فإنه سنة أو واجب على ما اختاره الكمال، (قوله: مع الخرور) بأن يكون ابتداء التكبير عند ابتداء الخرور وانتهاؤه عند انتهائه شرح المنية."

(رد المحتار1 / 497ط:سعيد)

وفي الفتاوى الهندية:

(ويركع حين يفرغ من القراءة وهو منتصب) هو المذهب الصحيح، كذا في الخلاصة في الجامع الصغير، ويكبر مع الانحطاط، كذا في الهداية، قال الطحاوي: وهو الصحيح، كذا في معراج الدراية، فيكون ابتداء تكبيره عند أول الخرور والفراغ عند الاستواء للركوع." (1/ 74ط:سعيد)

وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري:

"ثم اعلم أن المصنف لم يستوف ذكر المكروهات في الصلاة فمنها أن كل سنة تركها فهو مكروه تنزيها كما صرح به في منية المصلي من قوله: ويكره وضع اليدين على الأرض قبل الركبتين إذا سجد ... وأن يأتي بالأذكار المشروعة في الانتقالات بعد تمام الانتقال و فيه خللان تركها في موضعها وتحصيلها في غير موضعها ذكره في مواضع متفرقة من مكروهات الصلاة."

(2/ 34الناشر: دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144210200401

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں