بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

تکافل کا شرعی حکم


سوال

تکافل کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

جمہور علماءِ کرام کے نزدیک  کسی بھی قسم کی  بیمہ (انشورنس) پالیسی  سود اور قمار (جوا) کا مرکب  ومجموعہ ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اور  مروجہ انشورنس کے متبادل کے طور پر  بعض ادارے  ”تکافل“ کے نام سے جو نظام  چلارہے ہیں،  وہ بھی شرعی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز  ہے۔

مروجہ    تکافل کے نظام کو جائز قرار دینے والے  اس  کی بنیاد  ’’وقف‘‘ کے قواعد  پر قرار دیتے ہیں ، لیکن  اس نظام میں وقف کے  قواعد کی مکمل رعایت نہیں کی جاتی؛  لہذا کسی بھی مروجہ تکافل کمپنی  کے ساتھ   کسی  قسم کا معاہدہ کرنا اور اس کا ممبر بننا شرعاً جائز نہیں ہے۔

مزید تفصیل کے لیے  ملاحظہ فرمائیں:

تکافل ماڈل اور اس کی شرعی خرابیاں | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (banuri.edu.pk)

مروجہ تکافل کاشرعی حکم | جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن (banuri.edu.pk)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144211200772

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں