بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

ٹائی پہننے کا حکم


سوال

ٹائی پہننا  کیسا ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ یہ بات متحقق نہیں ہوئی کہ عیسائی اپنے مذہبی شعار یا عقیدہ صلیب کی بنا پر ٹائی کا استعمال کرتے ہیں۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"ٹائی ایک وقت میں نصاریٰ کا شعار تھا، اس وقت اس کا حکم بھی سخت تھا، اب غیر نصاریٰ  بھی بکثرت استعمال کرتے ہیں، اب اس کے حکم میں تخفیف  ہے، اس کو شرک یا حرام نہیں کہا جاسکتا، کراہت سے خالی اب بھی نہیں ہے۔"

(ج،19،ص،289،ط،فاروقیہ )

تاہم چوں کہ ٹائی کا استعمال کرنا صلحاء،شرفاء کے لبا س کا حصہ نہیں، بلکہ فساق و فجار یا ان سے مرعوب لوگوں کے لباس کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے اور جو لبا س فساق و فجار کا شعار ہو یا اس میں فساق و فجار سے مشابہت نظر آتی ہو، اس کو استعمال کرنا صحیح نہیں ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں کفار و فساق کی مشابہت سے صراحتاً منع کیا گیا ہے، لہٰذا ٹائی کا استعمال کراہت سے خالی نہیں، اس کو پہننے سے اجتناب ضروری ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا، اس کا شمار اسی قوم میں ہوگا۔

مرقاہ المفاتیح میں ہے:

"أي من تشبّه نفسه بالکفار مثلًا في اللباس وغیرہ، أو بالفساق  أو الفجار."

(ج،4،ص،431،ط: مکتبة إسلامیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205200416

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں