بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

تحریم نام رکھنا


سوال

تحریم نام کیوں رکھنا غلط ہے؟  دلائل کے ساتھ روشنی ڈالیں مہربانی ہوگی۔

جواب

"تحریم" کا معنی ہے ممنوع قرار دینا، حرام کرنا،سختی وغیرہ، لہذا معنوی لحاظ سے  یہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے،جب کہ  نام کے لئے اچھے معنی والا نام رکھنے کا حکم ہے، چنانچہ حدیث شریف میں ہے :

"عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم»."

(سنن ابي داود، كتاب الأدب،‌‌باب في تغيير الأسماء، رقم الحديث:4948)

ترجمہ:" حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہ روز قیامت تمھیں تمھارے اور تمھارے آباء (باپوں) کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا؛ اس لیے ناموں کو اچھا رکھنے کا اہتمام کرو۔"

لسان العرب میں ہے:

"حرم: الحرم، بالكسر، والحرام: نقيض الحلال، وجمعه حرم ... وقد حرم عليه الشيء حرما وحراما وحرم الشيء، بالضم، حرمة وحرمه الله عليه وحرمت الصلاة على المرأة حرما وحرما ... ومنه حديثالصلاة: تحريمها التكبير، كأن المصلي بالتكبير والدخول في الصلاة صار ممنوعا من الكلام والأفعال الخارجة عن كلام الصلاة وأفعالها، فقيل للتكبير تحريم لمنعه المصلي من ذلك."

(12/ 119, فصل الحاء المهملة، :دار صادر،بيروت)

تاج العروس میں ہے:

"والتحريم: الصعوبة، يقال: بعير محرم؛ أي: صعب، وأعرابي محرم، أي: جاف فصيح لم يخالط الحضر."

(31/ 473، فصل الحاء المهملة، ط: دارالهداية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144309101223

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں