بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دررود ابراہمیی سے متعلق تین خاص فضائل والی روایت کی تحقیق


سوال

درودِ ابراہیمی پڑھنا ساری نفلی عبادتوں سے افضل ہے، درودِ ابراہیمی پڑھنے والے کے گناہ تین دن تک فرشتے نہیں لکھتے، درودِ ابراہیمی کی کثرت کرنے والے کو قبر میں نہ مٹی کھائے گئی نہ کیڑے ۔

ان فضائل کا حوالہ مطلوب ہے۔ 

جواب

درودِ ابراہیمی سے متعلق مذکورہ فضیلت پر مشتمل کوئی روایت ہمیں تلاش ِبسیار کے باوجود  معتبر کتابوں میں نہیں مل سکی ، البتہ سوال میں مذکورحصہ ’’ درودِ ابراہیمی پڑھنے والے کے گناہ تین دن تک فرشتے نہیں لکھتے‘‘ کی مناسبت سے ایک عمومی روایت (جس میں خاص درودِ ابراہیمی سے متعلق تو يه فضيلت  مذكور نہیں   بلکہ عمومی طور پر درود شریف سے متعلق فضيلت موجودہے  )بطور ِحدیث بغیر کسی سند کے  علامہ  ابن جوزی رحمہ اللہ  (المتوفى: 597ھـ)کی ’’بستان الواعظین‘‘  میں ملتی ہے  ، اس کی عبارت ملاحظہ فرمائیں : 

" وَقَالَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: من صلى عَليّ مرّة وَاحِدَة أَمر الله حافظيه أَن لَا يكتبا عَلَيْهِ ذَنبا ثَلَاثَة أَيَّام."

(بستان الواعظين، أَحَادِيث فِي فضل الصَّلَاة، (ص: 298)، ط/ مؤسسة الكتب الثقافية - بيروت)

پھر اسی روایت کو علامہ سخاوی رحمہ اللہ  (المتوفى: 902ھ) نے بھی اس صراحت کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ وه  اس کی کسی سند سے واقف نہیں ہوسکے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: 

"ويروي عن النبي صلى الله عليه وسلم مما لم أقف له على سند، قال: من صلى علي صلاة واحدة، أمر الله حافظيه أن لا يكتبا عليه ذنباً ثلاثة أيام." 

(القول البديع ، الباب الثاني: في ثواب الصلاة على رسول الله - صلى الله عليه وسلم،(ص: 259)، ط/ مؤسسة الريان)

 نیز سوال میں مذکور حصہ ’’درودِ ابراہیمی پڑھنا ساری نفلی عبادتوں سے افضل ہے‘‘ کی مناسبت سے  صاحبِ تنبیہ الغافلین شيخ نصر بن محمد بن ابراهيم السمرقندی رحمہ اللہ (المتوفي: 373ھ)  سے منقول ہے کہ انہوں نے مطلق درود شریف (خاص درودِ ابراہیمی نہیں )کے پڑھنے کو تمام (نفلی) عبادات سے افضل قرار دیا ہے، ان کی عبارت ملاحظہ فرمائیے :   

" إذا أردت أن تعرف أن الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم أفضل من سائر العبادات، فانظر وتفكر في قول الله سبحانه وتعالى (إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا)، فسائر العبادات يأمر الله تبارك وتعالى عباده بها، وأما الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم فقد صلى هو بنفسه عليه أولا، وأمر ملائكته بالصلاة عليه، ثم أمر المؤمنين أن يصلوا عليه، فثبت بهذا أن الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم أفضل العبادات. "

(تنبيه الغافلين، باب فضل الصلاة على النبي، (ص: 232)، ط/ دار الكتب العلمية، بيروت)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144507100980

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں