بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 رجب 1444ھ 03 فروری 2023 ء

دارالافتاء

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے متعلق ایک روایت کی تحقیق


سوال

۱۔عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ، جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "‏ إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ‏"۔

حضرت جبریل علیہ السلام  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر ایک سبز رنگ کے ریشمی کپڑے میں آپ ﷺ کی خدمت میں لائے اور فرمایا کہ یہ آپ کی دنیا اور آخرت میں بیوی ہیں۔

(‏ ‏جامع الترمذیِ، حدیث نمبر:۳۸۸۰ ۔صحیح ا بن حبان ، حدیث نمبر ۷۰۹۴۔)

۲۔ أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لعائشة -رضي الله عنها-: «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟» قُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: «فَأَنْتِ زَوْجَتِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ».

آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تم اس بات پر مطمئن نہیں ہوکہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیوی ہو؟میں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے کہا کہ اللہ  کی قسم کیوں نہیں ،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم دنیا اور آخرت میں میری بیو ی ہو ۔

(مستدرک حاکم ،جلد:۴ صفحہ :۱۰۔صحیح ابن حبان، حدیث:۷۰۹۵۔کنز العمال ،جلد:۵ صفحہ:۳۳۲ ۔)

کیا یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ؟

جواب

یہ دونوں احادیث ایک ہی  حدیث ِ مبارک کے دو حصہ ہیں، ایک حصہ وہ ہے جس میں جبرئیل امین علیہ السلام کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں آکر ام المؤمنین  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی کی تصویر ایک ریشم کے ٹکڑے میں دکھانے کا ذکر ہے، اور دوسرے حصے  میں  جبرئیل امین علیہالسلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا بھی ذکر ہے کہ هذه زوجتك في الدنيا والآخرة  (کہ یہ خاتون دنیا و آخرت میں آپ کی بیوی ہیں).  

پہلا  حصہ تو صحیحین کی روایت سے ثابت ہے،امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ اس روایت کو تقریباً پانچ بار اپنی کتاب میں لائے ہیں۔  جبکہ دوسرے حصے کا اضافہ  سنن الترمذی، صحيح ابن حبان اور مستدرک حاکم  کی روایات میں ہے، مگر مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان کی ایک روایت اورترمذی کی روایت  میں فرق یہ ہے کہ پہلی دو کتابوں میں ''أنت زوجتي في الدنيا والآخرة"  حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے ، جب کہ ترمذی اور ابن حبان کی دوسری روایت میں " هذه زوجتك في الدنيا والآخرة" کے الفاظ میں   حضرت جبرئیل علیہ السلام کا کلام منقول ہے ، الفاظ کسی کے بھی  ہوں معنی دونوں کا ایک ہے اور ایسے  لفظی اختلاف  کی وجہ سے روایت پر کوئی ا ثر نہیں پڑتا۔

امام ترمذی  اس روایت  کونقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں : "هذا حديث حسن غريب، لانعرفه إلا من حديث عبد الله بن عمرو بن علقمة".

اور فرماتے ہیں کہ عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کو  مرسلًا نقل کیا ہے، یعنی  اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا واسطہ نہیں ہے۔

امام حاکم نے روایت نقل کرنے کے بعد کہا ہے  :"الحديث صحيح، ولم يخرجاه".

عبد الله بن عمرو بن علقمة ، ثقة راوی ہیں، اور ثقہ کا تفرد معتبر ہوتا ہے، اس لیے  امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو حسن قرار  دیاہے۔ ممکن ہے کہ عبد اللہ بن عمرو بن علقمہ نے یہ روایت ابن ابی ملیکہ سےمرسلاً ، اور متصلاً دونوں طرح نقل کی ہو، لہذا  یہ اضافہ درست سند سے ثابت ہوا۔  

 ملاحظہ فرمائیے: صحيح البخاري  : 3895, 5078, 5125, 7011, 7012 ،  صحيح مسلم :  2438 ، مسند أحمد : 24142, 24971, 25285 ۔

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144301200098

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں