بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

تحکیم


سوال

ہماری مسجد کی حکومت سے منظور شدہ  ایک کمیٹی ہے،  خطیب اس کمیٹی کا صدر ہے، ناظرہ کی ایک کلاس امام مسجد کی نگرانی میں ہے،اور دوسری ایک    کلاس قاری صاحب کی نگرانی میں ہے،کلاسوں کی نظم و ترتیب میں  امام صاحب اور قاری صاحب  کے درمیان سخت  جھگڑا  ہوتا ہے،  کبھی  یہ جھگڑا اتنی شدت اختیار کرتا ہے  کہ آوازیں  دور     دور تک سنائی دیتی ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ امام صاحب    کا دعوی   ہے   کہ یہ سارا    نظام میرے ماتحت ہونا چاہیے؛ کیوں کہ  میں کمیٹی کا صدر ہوں، عوام کے تعاون سے   مسجد کی  تمام اخراجات کا   انتظام کرتا  ہوں اور ہر معاملہ میں میں جواب دہ ہوں۔

قاری صاحب کا دعوی ہے کہ سارا نظام میرے ماتحت ہونا چاہیے؛ کیوں کہ  میں اس امام صاحب سے پہلے آیا ہوں ۔ مقامی علماء نے   مصالحت کی کوشش کی لیکن ناکام   رہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دے کہ قاری صاحب کا دعوی درست ہے یا امام صاحب کا؟

جواب

 مسجد کی موجودہ کمیٹی  جو فیصلہ کرے  اس کے مطابق  عمل کیا جائے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100554

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں