بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تہجد کی نماز کا وقت


سوال

 میں ایک طالب علم ہوں اور میں تہجد کی نماز کے لیے اٹھنا چاہتا ہوں، لیکن میں ساڑھے چار بجے  اٹھا ہوں اور تہجد فجر کی نماز تک دعا یا نماز پڑھتا ہوں، لیکن میں  نے مسجد میں فجر کے وقت دیکھا تو آج کے وقت ۴:۱۹  تھا، جس کا مطلب یہ ہوا کے میرے تہجد تو ہوئی ہی  نہیں، اب میں اس  کشمکش میں ہوں کہ کیا میرے تہجد اور دعائیں قبول ہوتی ہیں؟ کیوں کہ میں تو ایک عرصے سے فجر کی اذان سے آدھا گھنٹہ پہلے تہجد کی نماز کا اہتمام کرتا ہوں، جب کے فجر کے وقت (انتہائے وقت) 4:19 ہے آج کے حساب سے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا انتہا ء وقت کے بعد تہجد پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب

تہجد کا وقت صبح صادق (طلوع فجر) تک ہوتا ہے، صبح صادق (طلوع فجر) ہوجانے کے بعد فجر کی دو سنت کے علاوہ کسی بھی قسم کی نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے، پس اگر کسی نے صبح صادق کے بعد تہجد  ادا کرلی تو تہجد ادا نہ ہوگی،  اس لیے  فجر سے کچھ دیر پہلے اٹھنے کے وقت اگر صبح صادق (طلوع فجر ) نہ ہوئی ہوتو  تہجد کی نماز پڑھی جاسکتی ہے، لیکن اگر صبح صادق کا وقت ہوچکا ہو تو پھر تہجد کی نماز پڑھنا درست نہیں ہے، آئندہ تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے  وقت کو دیکھ لیا جائے ۔ جو کچھ وقت میں غلط فہمی کی  وجہ سے تہجد کی نیت سے پڑھا اسے ضابطہ شرعی کی رو سے تہجد قرار نہیں دیا جائے گا، باقی دعائیں جو کیں، وہ رائیگاں نہیں جائیں گی، دعاؤں کے لیے تہجد کا وقت لازم نہیں۔

اور  شک  و  شبہات سے  بچنے کے  لیے اوقاتِ  نماز  کی  کوئی مستند جنتری  (مثلًا: پروفیسر عبداللطیف صاحب مرحوم کی تیار کردہ جنتری) اپنے پاس رکھ  لیں، تاکہ اشتباہ سے بچ سکیں۔ یا ہماری ویب سائٹ کے سرورق یا دار الافتاء سیکشن میں "اوقاتِ نماز" کے عنوان کے تحت اپنے مطلوبہ ملک و شہر کا دائمی نقشہ اوقاتِ نماز ملاحظہ کیجیے۔

تنوير الأبصار مع الدر و الرد میں ہے:

(من) أول (طلوع الفجر الثاني) وهو البياض المنتشر المستطير لا المستطيل (إلى) قبيل (طلوع ذكاء) بالضم غير منصرف اسم الشمس. (قوله: وهو البياض إلخ) لحديث مسلم والترمذي واللفظ له «لا يمنعنكم من سحوركم أذان بلال ولا الفجر المستطيل ولكن الفجر المستطير» " فالمعتبر الفجر الصادق وهو الفجر المستطير في الأفق: أي الذي ينتشر ضوءه في أطراف السماء لا الكاذب وهو المستطيل الذي يبدو طويلا في السماء كذنب السرحان أي الذئب ثم يعقبه ظلمة.

(کتاب الصلاۃ ،  جلد ۱، ص: ۳۵۹، ط: سعید )

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100179

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں