بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو القعدة 1445ھ 29 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تہجد کی ترغیب وفضیلت سے متعلق حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ کا ایک خواب


سوال

حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی:۲۹۷ھ) کووفات کے بعد کسی نے خواب میں دیکھا تو سوال کیا: حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ آپ نے کہا: "فَنِیَتِ الْـحَقَائِقُ وَ الْاِشَارَاتُ، وَ نَفِدَتِ الرُّمُوْزُ وَ الْعِبَارَاتُ، وَ مَا نَفَعَنَا اِلاَّ رُکَیْعَاتٌ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ".’’یعنی سارے علوم و حقائق وغیرہ فنا ہوگئے، یہاں کچھ کام نہ آئے، اگر کچھ کام آئیں تو صرف وہ چھوٹی چھوٹی رکعتیں کام آئیں جو میں آدھی رات کو پڑھاکرتا تھا، یعنی تہجد ‘‘۔(الافاضات،ج:۲، ص: ۲۸۶)

کیا یہ واقعہ مستندهے؟  اس واقعہ کا اصل ماخذ کیا ہے ؟یہ واقعہ کس کتاب میں موجود ہے؟

جواب

سوال میں تہجد  کی ترغیب وفضیلت سے متعلق حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ(متوفی:۲۹۷ھ)  کا جو واقعہ ذکر  کرکے اس کے بارے میں دریافت کیا   گیاہے، یہ واقعہ  کتبِ  طبقات  میں سے"حلية الأولياء وطبقات الأصفياء"، "طبقات الحنابلة"، "طبقات الشافعية الكبرى"،اور کتبِ تاریخ میں سے"مرآة الزمان في تواريخ الأعيان"ودیگر مختلف کتب میں  الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکورہے۔  ہماری جستجو کے مطابق اس واقعہ کا اولین ماخذحافظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ(متوفی:۴۳۰ھ) کی کتاب "حلية الأولياء وطبقات الأصفياء" ہے، حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ  نے  اپنی سند کے ساتھ یہ واقعہ درج ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے:

"أخبرنا جعفر بن محمّد بن نُصير، فيما كتب إليَّ وحدّثني عنه، محمّد بن إبراهيم قال: رأيتُ الجنيد في النّوم فقلتُ: ما فعل الله بك؟ قال: طاحتْ تلك الإشاراتُ، وغابتْ تلك العباراتُ، وفنِيتْ تلك العلومُ، ونفِدتْ تلك الرّسومُ، وما نفعَنا إلّا رُكيعاتٌ كنا نركعُها في الأسحار". 

(حلية الأولياء، ذكر طوائف من جماهير النساك والعباد، ترجمة: الجنيد بن محمد الجنيد، 10/257، ط: مطبعة السعادة بجواز محافظة مصر)

ترجمہ:

’’(حضرت) محمد بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میں نے(حضرت) جنید(بغدادی) رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھاتومیں نے عرض کیا: اللہ تعالی نے آپ کے  ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟انہوں نے فرمایا:تمام اشارات  ہلاک ہوگئے،  تمام عبارتیں غائب ہوگئیں،تمام علوم فنا ہوگئے،تمام رسوم ختم ہوگئے،ہمیں  تو انہی چند چھوٹی چھوٹی رکعتوں نے فائدہ دیا جو سحر کے وقت( تہجد میں)  پڑھ لیا کرتے تھے‘‘۔

مذکورہ تفصیل کی رو سے معلوم ہوا  کہ  خواب کا یہ واقعہ  درست اور قابلِ بیان ہےاور اس میں تہجد کی اہمیت بیان کرنا مقصود ہے۔

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144504101130

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں