بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

تفسیر طبری کے اردو ترجمہ کے متعلق معلومات


سوال

کیا تفسیر طبریی اردو میں موجود ہے ؟ اگر ہے تو پاکستان سے ملتی ہے؟ اور کہاں سے مل سکتی ہے؟ اگر کوئی انسان بذاتِ خود اس کا مطالعہ کرنا چاہے تو اس کو سمجھ سکتا ہے ؟

جواب

"جامع البیان في تفسیر القرآن" جسے تفسیر طبری کہا جاتا ہے، تفاسیر میں سب سے قدیم ہے،اس کے موٴلف علامہ محمد بن جریر رحمه اللہ ہیں۔ہماری معلومات کے مطابق اس تفسیر کا کوئی بھی اردو ترجمہ مطبوعہ شکل میں پاکستان سے نہیں چھپا۔البتہ اس کا ایک ترجمہ حضرت مولانا ظہور الباری اعظمی رحمہ اللہ نے کیا ہے،اور دیوبند کے مکتبہ "بیت الحکمت" کے ذریعہ اس کی اشاعت عمل میں آ ئی،لیکن اس میں بھی صرف تین پارے چھ اجزاء منظر عام پر آسکے ہیں۔اس ترجمه کے حوالے سے دار العلوم دیوبند کے مدرس مولانا اشتیاق احمد صاحب "ماہنامہ دار العلوم دیوبند" میں لکھتے ہیں:

’’ترجمہ بہت عمدہ ہے، زبان وبیان کے لحاظ سے کہیں کمی محسوس نہ ہوئی، وقت کے بہت بڑے صاحب طرز ادیب مولانا عبدالماجد دریابادی رحمة اللہ علیہ نے اپنے رسالے ہفتہ وار "صدق جدید" میں ترجمہ کی عمدگی کا اعتراف فرمایا ہے، اس عظیم علمی تفسیری سرمایہ کے اردو زبان میں منتقل ہونے سے ان کو بہت خوشی ہورہی تھی، تبصرہ نہایت حوصلہ افزا ہے، ۱۶/شوال ۱۳۸۴ھ کے "صدق جدید" کے فائل کو دیکھا جاسکتا ہے، اسی طرح مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہٴ دینیات کے صدر حضرت مولانا سعید احمد اکبرآبادی رحمہ الله نے بھی ماہ نامہ "برہان" دہلی میں "تفسیر ابن جریر طبری" کے اردو ترجمہ کی بڑی تعریف فرمائی ہے، ان بزرگوں کے اعتماد کے بعد ترجمہ کی خوبی سے کسی طرح انکار نہیں کیا جاسکتا، اور سب سے بہتر تجربہ اپنا مطالعہ ہے؛ چوں کہ یہ ترجمہ اردو خواں حلقہ کو پیش کیا جارہا ہے؛ اس لیے ان کی رعایت میں نحو وصرف کے دقیق مسائل کا ترجمہ جان بوجھ کر چھوڑ دیاگیا ہے؛ تاکہ عوام کی گرفت سے باہر نہ ہوجائے؛ البتہ قراء ت اور زبان ولغت کی بحث کو تسہیل کے ساتھ ترجمہ میں پیش کیا ہے، اسی طرح شروع میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ : کتاب کے ابتدائی حصے (مقدمہ) کاترجمہ چھوڑدیاگیا ہے۔ راقم الحروف کو یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ قراء ت اور زبان کی بحث کو جب تسہیل کے ساتھ بیان کرنے کی شکل نکالی گئی تو پھر نحو وصرف کے مسائل کو کیوں چھوڑدیاگیا؛ کیا ان کو تسہیل بیانی کے ذریعہ ترجمہ میں شامل کرنا ممکن نہ تھا؟ یہ طے کرلینا کہ اس کو عوام ہی پڑھے گی خواص اور درمیان کے اہل ذوق استفادہ نہیں کریں گے، محلِ نظر ہے؛ اس لیے ہر جزء کا سلیقہ سے ترجمہ ہونا ضروری تھا، اسی طرح "مقدمہ" کو ترجمہ سے مستثنیٰ کرنا بھی مناسب نہیں تھا، اس کو بھی تسہیل کے ساتھ ترجمہ میں شامل کیا جاتا تو بہتر تھا، خیر! پسند اپنی اپنی ․․․ اس تفسیر میں اچھی خاصی تعداد میں اسرائیلی روایات؛ بلکہ ضعیف کے ساتھ موضوع روایات بھی ہیں، ترجمہ کے ساتھ اگر ان کے درمیان صحیح اور غلط، ثابت اور غیر ثابت کی نشاندہی کردی جاتی تو اور بھی بہتر تھا، جیساکہ"ابن کثیر" میں مفسر نے خود یہ کام کرکے اپنا اعتماد حاصل کیا ہے، اللہ کرے! "مردے از غیب نماید وکارے بہ کند"غرض یہ کہ ترجمہ معیاری اور سلیقہ مند ہے،اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں قرآنی آیات کے ترجمہ کے لیے سب سے قابل اعتماد ترجمہ قرآن کو منتخب کیاگیا ہے اور وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله کا ترجمہ ہے۔‘‘

(ماہنامہ دارالعلوم ;، شمارہ 4 ، جلد: 95 ;، جمادی الاولی 1432 ہجری مطابق اپریل 2011ء)

ذکر کردہ ترجمہ بھی ہماری معلومات کے مطابق پاکستان میں دستیاب نہیں۔

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144504100081

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں