بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

تفسیر ابن کثیر کا اردو ترجمہ پڑھنے کا حکم


سوال

ہم لوگ  قرآن مجیدکی مشہور تفسیر ابن کثیر(اردو) دیکھ  کر پڑھنا چاہتے ہیں، کیا ہمیں اس کی اجازت ہے یا نہیں ؟ 

جواب

پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے ذکر نہیں کیا کہ تفسیر ابن کثیر کا کون سا ترجمہ آپ کے پیشِ  نظر ہے؟  اس لیے کہ  تجربہ یہ ہے کہ  خالص علمی کتابوں کے بیش تر  اردو   تراجم فنی یا دیگر اعتبارات سے مضبوط  و مستند نہیں ہوتے، الا ماشاء اللہ ! اب اندازا  نہیں کہ آپ کے  پیشِ  نظر  ترجمہ کس پائے  کا ہے؟!

دوسری بات  یہ  ہے کہ تفسیر ابن کثیر اور اس نوع کی خالص علمی کتب کے ترجمے  کو پڑھنے  کی صلاحیت بھی ہر عامی میں نہیں ہوتی، اس لیے کہ خالص علمی  وفنی کتابیں ، علمی اصطلاحات اور گہرے  و دقیق مباحث  پر مشتمل ہوتی ہیں ، جن کا پس منظر جانے بغیر   اور کسی عالم کی رہبری کے بغیر انہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے بہتر اور احتیاط کی صورت یہ ہے  کہ آپ لوگ از خود اس  کتاب کا مطالعہ کرنے کے بجائے کسی مستند اہلِ حق  عالم سے پڑھیں، یا کم از کم   ان سے رہبری لیتے رہیں۔   فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144210201386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں