بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

تعلیم میں سہولت کے پیشِ نظربچوں کو آخر سے قرآن کریم شروع کرانے کا حکم


سوال

1- بچوں کو قاعدے کے بعد پارۂ عم ّ(تیسواں پارہ) پڑھایا جاتا ہےتا کہ وہ جوڑ پر عبور حاصل کر لیں تو  پارۂ عم ّکے بعد پہلا پارہ پڑھایا جائے یا آخر سے لےکر پہلے پارہ پر آکر ختم کروانا درست ہے؟

2-اور اس طرح اگر آخرسےلےکرآ رہے ہوں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے ، پارہ کے شروع سے پڑھایا جانے یا آخر سے،  کہ پہلے آخری رکوع پھر اس سے پہلا اسی طرح آخر سےلےکر آتےآتےپارہ ختم کرایاجائے؟

جواب

1-‌‌تلاوت کےدوران سورتوں کوترتیب وار پڑھناضروی ہے مثلاً:آخری پارہ پڑھناہےتوسورۃ النبأ سےشروع کرکےسورۃ الناس پرختم کیاجائے، لیکن تعلیم میں سہولت اورآسانی کےپیشِ نظر بچوں کوقرآن  کریم آخری پارے  سےشروع کراکر پہلے پارے  پر ختم  کروانے میں کوئی حرج نہیں  ہے۔

2-چوں کہ پارۂ عمّ کےعلاوہ قرآن کریم کے باقی پاروں میں،   پارہ کواوّل سےیاآخرسےشروع کرانےمیں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے، بلکہ تقریباً برابرہے، اس لیےپارۂ عم ّ کےعلاوہ باقی پاروں میں ترتیبِ قرآنی کا لحاظ کرکے اوٗل سےشروع کرایاجائےآخرسےشروع نہ کرایاجائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"و يكره الفصل بسورة قصيرةً و أن يقرأ منكوسًا

(قوله: و أن يقرأ منكوسًا) بأن يقرأ الثانيةسورة أعلى مما قرأ في الأولى؛ لأن ترتيب السور في القراءة من واجبات التلاوة؛ و إنما جوز للصغار تسهيلًا لضرورة التعليم ط."

(‌‌كتاب الصلاة، فصل في القراءة، 546/1، ط:سعید)

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

(لأن ترتيب السور في القرآن من واجبات التلاوة، و إنما جوز للصغار ‌تسهيلًا ‌لضرورة ‌التعليم، و استثنوا من كراهة التنكيس: أن يختم القرآن، فيقرأ من البقرة."

(‌‌الباب الثاني: الصلاة، ‌‌المبحث الأول ـ سنن الصلاة الداخلة فيها، 883/2، ط:دار الفکر)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144511102406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں