بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

تابوت سکینہ کے بارے میں معلومات


سوال

تابوت سکینہ کے متعلق راہ نمائی فرمائیں ۔

جواب

’’معارف القرآن‘‘  میں مفتی  محمد شفیع  صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"{اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ... الآية}بنی اسرائیل میں ایک صندوق چلا آتا تھا، اس میں برکات تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیرہ انبیاء (علیہم السلام) کے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتا، جب جالوت بنی اسرائیل پر غالب آیا تو یہ صندوق بھی وہ لے گیا تھا، جب اللہ تعالیٰ کو صندوق کا پہنچانا منظور ہوا تو یہ کیا کہ وہ کافر جہاں صندوق کو رکھتے وہیں وباء اور بلاء آتی، پانچ شہر ویران ہوگئے، ناچار ہو کردو بیلوں پر اس کو لاد کر ہانک دیا، فرشتے بیلوں کو ہانک کر طالوت کے دروازے پر پہنچا گئے، بنی اسرائیل اس نشانی کو دیکھ کر طالوت کی بادشاہت پر یقین لائے اور طالوت نے جالوت پر فوج کشی کردی اور موسم نہایت گرم تھا"۔ 

(معارف القرآن ،ج: 1، ص: 606، ط: معارف القرآن کراچی)

تفسیر قرطبی  میں ہے:

"وقال لهم نبيهم إن آية ملكه أن يأتيكم التابوت فيه سكينة من ربكم وبقية مما ترك آل موسى وآل هارون تحمله الملائكة إن في ذلك لآية لكم إن كنتم مؤمنين." (سورة ابقرة : الآية:248)

"قوله تعالى: و قال لهم نبيهم إن آية ملكه أن يأتيكم التابوت فيه سكينة من ربكم وبقية مما ترك آل موسى وآل هارون تحمله الملائكة إن في ذلك لآية لكم إن كنتم مؤمنين (248) قوله تعالى: (وقال لهم نبيهم إن آية ملكه أن يأتيكم التابوت) إتيان التابوت، والتابوت كان من شأنه فيما ذكر أنه أنزله الله على آدم عليه السلام، فكان عنده إلى أن وصل إلى يعقوب عليه السلام، فكان في بني إسرائيل يغلبون به من قاتلهم حتى عصوا فغلبوا على التابوت غلبهم عليه العمالقة: جالوت وأصحابه في قول السدي، وسلبوا التابوت منهم. قلت: وهذا أدل دليل على أن العصيان سبب الخذلان، وهذا بين. قال النحاس: والآية في التابوت على ما روي أنه كان يسمع فيه أنين، فإذا سمعوا ذلك ساروا لحربهم وإذا هدأ الأنين لم يسيروا ولم يسر التابوت. وقيل: كانوا يضعونه في مأزق الحرب فلا تزال تغلب حتى عصوا فغلبوا وأخذ منهم التابوت وذل أمرهم، فلما رأوا آية الاصطلام و ذهاب الذكر، أنف بعضهم وتكلموا في أمرهم حتى اجتمع ملؤهم أن قالوا لنبي الوقت: ابعث لنا ملكا، فلما قال لهم: ملككم طالوت راجعوه فيه كما أخبر الله عنهم، فلما قطعهم بالحجة سألوه البينة على ذلك، في قول الطبري. فلما سألوا نبيهم البينة على ما قال، دعا ربه فنزل بالقوم الذين أخذوا التابوت داء بسببه، على خلاف في ذلك. قيل: وضعوه في كنيسة لهم فيها أصنام فكانت الأصنام تصبح منكوسة. وقيل: وضعوه في بيت أصنامهم تحت الصنم الكبير فأصبحوا وهو فوق الصنم، فأخذوه وشدوه إلى رجليه فأصبحوا وقد قطعت يدا الصنم ورجلاه وألقيت تحت التابوت، فأخذوه وجعلوه في قرية قوم فأصاب أولئك القوم أوجاع في أعناقهم. وقيل: جعلوه في مخرأة قوم فكانوا يصيبهم الباسور «2»، فلما عظم بلاؤهم كيفما كان، قالوا: ما هذا إلا لهذا التابوت! فلنرده إلى بني إسرائيل فوضعوه على عجلة بين ثورين وأرسلوهما في الأرض نحو بلاد بني إسرائيل، وبعث الله ملائكة تسوق البقرتين «3» حتى دخلنا على بني إسرائيل، وهم في أمر طالوت فأيقنوا بالنصر، وهذا هو حمل الملائكة للتابوت في هذه الرواية. وروي أن الملائكة جاءت به تحمله وكان يوشع بن نون قد جعله في البرية، فروي أنهم رأوا التابوت في الهواء حتى نزل بينهم، قاله الربيع بن خيثم. وقال وهب بن منبه: كان قدر التابوت نحوا من ثلاثة أذرع في ذراعين. الكلبي: وكان من عود شمسار «4» الذي يتخذ منه الأمشاط. وقرأ زيد بن ثابت" التابوه" وهي لغته، والناس على قراءته بالتاء وقد تقدم. وروي عنه" التيبوت" ذكره النحاس. وقرأ حميد بن قيس" يحمله" بالياء."

(سورة البقرة ، ج: 3، ص: 248، ط: دار الكتب المصرية)

مذکورہ حوالوں سے معلوم ہوتاہے کہ تابوتِ سکینہ حضرت آدم علیہ السلام کا صندوق تھا، آپ علیہ السلام کے بعد نسل در نسل چلتے چلتے حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا، پھر بنی اسرائیل کے انبیاء میں چلتا رہا، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے بعد ان کے اور دیگر انبیاء کے تبرکات اس میں موجود تھے، بنی اسرائیل اس صندوق کو لڑائی میں آگے رکھتے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے فتح دیتے تھے، جب بنی اسرائیل نے نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے قومِ عمالقہ (جالوت اور اس کی قوم) کو ان پر مسلط کیا، انہوں نے بنی اسرائیل اور ان کے شہروں کو تاراج کیا، انہیں علاقہ بدر بھی کیا، ان کی اولادوں کو قتل و گرفتار بھی کیا اور تابوت بھی لے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ نے جالوت اور اس کی قوم کو تابوت کی وجہ سے مختلف آزمائشوں میں گرفتار کیا، انہوں نے تابوت کو بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہنکا دیا، اس پورے عمل میں فرشتے پسِ پردہ مختلف امور انجام دیتے رہے اس وجہ سے سورہ بقرہ میں اللہ پاک نے فرمایا کہ فرشتے اسے اٹھالائیں گے،  یا پھر براہِ راست فرشتے اٹھاکر لائے، اور تابوت کا لوٹنا اللہ کے نیک بندے طالوت کی بادشاہت کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ٹھہری۔ چناں چہ بنی اسرائیل طالوت کی قیادت میں عمالقہ سے لڑے اور حضرت داؤد علیہ السلام جو طالوت کے لشکر میں شامل تھے اور ابھی تک نبوت سے سرفراز نہیں ہوئے تھے، انہوں نے بہت بہادری سے کفار کا مقابلہ کیا اور جالوت (کافر بادشاہ) کو قتل کردیا، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بادشاہت، حکمت اور نبوت عطا فرمائی اور جو چاہا علم دیا۔ 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404101634

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں