بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

تبلیغ کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کے صدقے وطفیل ہمیں ملا ہے


سوال

تبلیغ کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے صدقے وطفیل ہمیں ملا ہے ، اس بات کی تصدیق ہے ؟ اگر ہے تو اس کا مطلب کیا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں دعوت و تبلیغ کا کام بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے و طفیل سے ہمیں ملا ہے اور اس کا ثبوت اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور تم میں  ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ  خیر کی طرف بلایا  کرے اور نیک کاموں کے کرنے کو کہا  کرے اور برے کاموں سے روکا  کرے اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔  اور دوسری جگہ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم لوگ اچھی جماعت ہو  جو جماعت لوگوں کے  لیے ظاہر کی گئی ہے،  تم لوگ نیک کاموں کو بتلاتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہو اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے زیادہ اچھا ہوتا، ان میں سے بعض تو مسلمان ہیں اور زیادہ حصہ ان میں سے کافر ہیں۔

اور اس کا مطلب یہ کہ جو شخص امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر قادر ہو یعنی قرائن  کے ذریعے غالب گمان رکھتا ہے کہ اگر میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر  کروں گا تو مجھ کو کوئی معتد بہ ضرر  لاحق نہ ہوگا اس کے  لیے امور واجبہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا واجب ہے، اور امور مستحبہ میں مستحب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

'وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ.'

(سورة اٰل عمران، الجز، 4، الآية، 104)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

'کُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللهِط وَلَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ط مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَاَکْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ.'

(سورة اٰل عمران، الجز، 4، الآية، 110)

تفسیر معارف القرآن میں ہے:

"اس آیت میں امت محمدیہ کے خیر الامم ہونے کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ خلق اللہ کو نفع پہنچانے ہی کے لئے وجود میں آئی ہے، اور اس کا سب سے بڑا نفع یہ ہے کہ خلق اللہ کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کی فکر اس کا منصبی فریضہ ہے اور پچھلی سب امتوں سے زیادہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل اس امت کے ذریعہ ہوئی، اگرچہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پچھلی امتوں پر عائد تھا، جس کی تفصیل احادیث صحیحہ میں مذکور ہے، مگر اول تو پچھلی بہت سی امتوں میں جہاد کا حکم نہیں تھا، اس لئے ان کا امر بالمعروف صرف دل اور زبان سے ہوسکتا تھا، امت محمدیہ میں اس کا تیسرا درجہ ہاتھ کی قوت سے امر بالمعروف کا بھی ہے جس میں جہاد کی تمام اقسام بھی داخل ہیں، اور بزور حکومت اسلامی قوانین کی تنفیذ بھی اس کا جزء ہے، اس کے علاوہ امم سابقہ میں جس طرح دین کے دوسرے شعائر غفلت عام ہو کر محو ہوگئے تھے، اسی طرح فریضہ امر بالمعروف بھی بالکل متروک ہوگیا تھا، اور اس امت محمدیہ کے متعلق آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ پیشگوئی ہے کہ " اس امت میں تا قیامت ایک ایسی جماعت قائم رہے گی جو فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر قائم رہے گی ۔"

(سورة اٰل عمران، ج:2، ص:149/150، ط:ادارۃ المعارف کراچی )

فتاوی محمودیہ میں ہے:

”تبلیغ دین ہر زمانہ میں فرض ہے، اس زمانہ میں بھی فرض ہے لیکن فرض علی الکفایہ ہے، جہاں جتنی ضرورت ہو اسی قدر اس کی اہمیت ہوگی اور جس میں جیسی اہلیت ہو اس کے حق میں اسی قدر ذمہ داری ہوگی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی صراحت قرآن کریم میں ہے ،سب سے بڑا معروف ایمان ہے اور سب سے بڑا منکر کفر ہے، ہر مومن اپنی اپنی حیثیت کے موافق مکلف ہے کہ خدائے پاک کے نازل فرمائے ہوئے دین کو حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے موافق پہونچاتا رہے“ ۔

(باب التبليغ، ج: 4، ص: 203/204، ط: ادارہ الفاروق کراچی )

خلاصہ یہ ہے کہ تبلیغ دین کی ذمہ داری سابقہ انبیاءکرام  کی امتوں پر بھی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھی ہے اور یہ امت  محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مکمل ہوئی اور ہر امت کو یہ کام نبی کی وجہ سے ملا ہے اور ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ملا ہے۔

فقط و الله اعلم


فتوی نمبر : 144409100164

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں