بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

تبلیغ کے سفر میں قصر کا حکم


سوال

کیا تبلیغی جماعت والے قصر پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں تبلیغی جماعت کا  اگر اپنے شہر یا قصبے سے باہر سوا ستتر کلو میٹر یا ا س سے زیادہ سفر کا اراد ہ ہو تو بیرونِ  شہر تشکیل کی صورت میں قصر یا اتمام کا حکم یہ ہے کہ :

 اگر   جماعت کی تشکیل  ایک شہر یا دیہات میں  پندرہ دن یا اس سے زیادہ  دنوں کے لیے ہو  تو جماعت والے وہاں مقیم ہوں گے اور پوری نماز پڑھیں گے، اگر چہ اس شہر یا دیہات کے اندر وقفے وقفے سے مسجدیں تبدیل کرتے رہیں۔  البتہ اس صورت میں اپنے شہر  کی آبادی سے نکلنے سے لے کر مطلوبہ شہر کی آبادی میں داخل ہونے تک دورانِ سفر (یعنی جب تک سفر جاری رہے) نماز میں قصر کریں گے۔

اور اگر مختلف شہروں یا مختلف دیہاتوں میں تشکیل  ہو اور کسی ایک شہر یا دیہات میں بھی پندرہ دن  یا اس سے زیادہ دنوں کی تشکیل نہ ہو تو ایسی صورت میں جماعت والے مقیم نہیں ہوں گے، بلکہ مسافر ہوں گے اور قصر نماز پڑھیں گے۔

اور اگر اپنے شہر یا قصبے سے باہر سوا ستتر کلو میٹر سے زیادہ کا سفر نہ ہو، بلکہ اس مسافت کے اندر اندر تشکیل ہو، جیساکہ مختصر تشکیل (سہ روزہ وغیرہ) میں ہوتاہے، تو چوں کہ  اس صورت میں شرعی مسافر نہیں ہوں گے، لہٰذا نماز بھی پوری ادا کریں گے۔

         فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية."

(1/ 139، کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209202302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں