بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طاق راتوں میں مسجد جاکر عبادت کا اہتمام کرنا


سوال

طاق راتوں میں جو لوگ مسجدوں میں اھتمام سے جاتے ھیں یہ عمل کیسا ھے، کیا یہ بدعت میں داخل ھے؟ طاق راتوں میں عبادت گھر میں افضل ھے یا مسجد میں؟کیوں کہ میں نے سنا ھے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم ابنے حجرہ ہی میں تھجّد ادا کرتے تھے جبکہ حجرہ بھت چھوٹا تھا اور مسجدِنبوی بالکل برابر ہی تہی۔ اور طاق راتوں میں جو اھتمام عبادت کا مسجد میں ھوتا ھے کیا یہ حدیث یا صحابہ کے عمل سے ثابت ھے؟

جواب

نفلی عبادات بغیر کسی وقت اور کسی رات کی تخصیص کے ہر وقت گھر میں ادا کرنا بنسبت مسجد کے افضل ھے، یہی حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اور صحابہ کرام کا معمول تھا۔ طاق راتوں میں مسجد جاکر عبادت کرنے کو سنّت سمجھنا بدعت ھے۔کوئی لازم اور سنت سمجھے بغیر انفرادی طور پر نفلی عبادات مسجد میں جاکر کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں خواہ طاق رات ہو یاکوئی اور وقت۔ واللہ اعلم۔


فتوی نمبر : 143407200030

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں