بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ذو الحجة 1442ھ 31 جولائی 2021 ء

دارالافتاء

 

سید رشتہ دار کو زکات دینا / غیر مسلم کو زکات دینا


سوال

 ہم زکات کے پیسے نکالتے ہیں، اور ہمارے خاندان  میں  کوئی سفید پوش   ہے، تو  کیا ہم  اسے زکات دے سکتے ہیں،  جب کہ وہ سید بھی  ہے؟ اس معاملہ کا حل بتائیں کہ اس کی مدد کیسے کریں؟   کیا کسی غیر مسلم کو زکات کی رقم دے کر اس سے اتنے پیسے لے کر اپنے  سید رشتہ دار کی مدد کر سکتے ہیں؟

جواب

سید کو  زکات دینا  اور اس کے لیے لینا جائز نہیں، اور نہ ہی سید کو دینے سے زکات ادا ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں زکات کے علاوہ  پاکیزہ مال سے اپنے  مذکورہ سید  رشتہ دار کی مدد کریں،  خود نہیں کرسکتے تو اصحابِ خیر کو اس مصرفِ خیر کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں، حلال آمدن سے سادات کے تعاون کے  نتیجے  میں ان شاء اللہ روزِ قیامت سردارِ دوجہان ﷺ   کی شفاعت کی قوی امید ہے۔

نیز کسی غیر مسلم کو زکات دینا بھی جائز نہیں، اور دینے کی صورت میں زکات ادا نہیں ہوگی، غیر مسلم کو زکات دے کر اس سے اتنی رقم لے کر سید رشتہ دار کو دینے سے زکات ادا نہ ہوگی، البتہ اگر زکات کے علاوہ مال تمام کوششوں کے باوجود دستیاب نہ ہوسکے جس سے سید کی مدد کی جائے، تو ایسی صورت میں کسی مستحقِ  زکات کو زکات مالک بنا کر دی جائے، اور اسے سید کی مدد کرنے کی ترغیب دی جائے، اگر وہ برضا و خوشی ، کسی جبر و اکراہ  اور دباؤ کے بغیر اس میں سے سید کو  کچھ  دے  دے تو اس صورت میں اس غریب کو  اجر  ملے گا اور سید کے لیے یہ رقم لینا جائز ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَلَايُدْفَعُ إلَى بَنِي هَاشِمٍ، وَهُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَبَّاسٍ وَآلُ جَعْفَرِ وَآلُ عَقِيلٍ وَآلُ الْحَارِثِ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ وَيَجُوزُ الدَّفْعُ إلَى مَنْ عَدَاهُمْ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَذُرِّيَّةِ أَبِي لَهَبٍ؛ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُنَاصِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَذَا فِي السِّرَاجِ الْوَهَّاجِ. هَذَا فِي الْوَاجِبَاتِ كَالزَّكَاةِ وَالنَّذْرِ وَالْعُشْرِ وَالْكَفَّارَةِ فَأَمَّا التَّطَوُّعُ فَيَجُوزُ الصَّرْفُ إلَيْهِمْ كَذَا فِي الْكَافِي، وَكَذَا لَايُدْفَعُ إلَى مَوَالِيهِمْ كَذَا فِي الْعَيْنِيِّ شَرْحِ الْكَنْزِ. وَيَجُوزُ صَرْفُ خُمُسِ الرِّكَازِ وَالْمَعْدِنِ إلَى فُقَرَاءِ بَنِي هَاشِمٍ، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النَّيِّرَةِ."

( كتاب الزكوة، الْبَابُ السَّابِعُ فِي الْمَصَارِفِ، ١ / ١٨٩، ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع میں ہے:

"ومنها: أن يكون مسلمًا فلايجوز صرف الزكاة إلى الكافر بلا خلاف لحديث معاذ -رضي الله عنه- «خذها من أغنيائهم وردها في فقرائهم» أمر بوضع الزكاة في فقراء من يؤخذ من أغنيائهم وهم المسلمون فلايجوز وضعها في غيرهم."

(كتاب الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة،  فصل الذي يرجع إلى المؤدى إليه، ٢ / ٤٩ ، ط: دار الكتب العلمية) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200376

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں