بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سید میں کن کا شمار ہوگا؟ اور فاسق اور فاجر سید کے احترام کا حکم


سوال

           سید کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟کیا سید کا اطلاق صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس اولاد پر ہوتا ہے جو سید ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے ہے یا اس کے علاوہ جو باقی بیٹیاں ہیں ان کی اولاد پر بھی ہو تا ہے ؟اور آل علی کے علاوہ جو باقی آل ہیں یعنی کہ آل جعفر رضی اللہ عنہ ،آل عقیل رضی اللہ عنہ،آل عباس رضی اللہ عنہ اور آل حمزہ رضی اللہ عنہ ان پر بھی سید کا اطلاق ہو گا یا نہیں ؟المختصر یہ کہ سادات کن کو کہا جائے گا ؟

اور دوسرا سوال یہ ہے کہ سید کے ادب و احترام  کا کیا حکم ہے؟ اگر سید مطیع نہ ہو بلکہ فاسق ،فاجر اور بد کردار ہو تو کیا اس کا احترام اور تعظیم کرنا لازمی ہے؟ یا بد کردار سید کی تعظیم ساقط ہو جاتی ہے ؟

جواب

1)      واضح رہے کہ اسلام کے ابتدائی عہد میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت حارث رضی اللہ عنہ ،حضرت جعفر رضی اللہ عنہ، حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کی اولاد اور ان کی نسل کو ’’سید‘‘  کہا جاتا تھا،  لیکن بعد میں یہ اصطلاح خاص ہوگئی، چناں چہ ہمارے عرف میں ’’سید‘‘  صرف وہ گھرانے  ہیں  جو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے صاحب زادگان حضرت حسن و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہوں، ان ہی کا لقب  ’’سید‘‘ ہے، اور یہ  ان کی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبی نسبت کی علامت ہے؛ لہٰذا صرف حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی نسل سے آنے والے گھرانوں کو  ’’سید‘‘ کہنا چاہیے۔

الحاوي للفتاوي میں ہے:       

إن اسم الشريف كان يطلق في الصدر الأول على كل من كان من أهل البيت سواء كان حسنيًا أم حسينيًا أم علويًا، من ذرية محمد بن الحنفية وغيره من أولاد علي بن أبي طالب، أم جعفريًا أم عقيليًا أم عباسيًا، ولهذا تجد تاريخ الحافظ الذهبي مشحونًا في التراجم بذلك يقول: الشريف العباسي، الشريف العقيلي، الشريف الجعفري، الشريف الزينبي، فلما ولي الخلفاء الفاطميون بمصر قصروا اسم الشريف على ذرية الحسن والحسين فقط، فاستمر ذلك بمصر إلى الآن، وقال الحافظ ابن حجر في كتاب الألقاب: الشريف ببغداد لقب لكل عباسي، وبمصر لقب لكل علوي، انتهى.
ولا شك أن المصطلح القديم أولى وهو إطلاقه على كل علوي وجعفري وعقيلي وعباسي، كما صنعه الذهبي، وكما أشار إليه الماوردي من أصحابنا

(كتاب الأدب والرقائق،العجاجة الزرنبية في السلالة الزينبية،ج:2،ص:39،ط:دار الفکر،بیروت)

ترجمہ : یعنی بے شک ’’سید‘‘ کا اطلاق قرونِ اولی میں ہر اُس شخص پر ہوتا تھا جو اہلِ بیت کرام سے ہو، چاہے وہ حسنی ہو ،حسینی ہو ،یا علوی ہو محمد بن حنفیہ کی اولاد اور دیگر اولادِ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، یا جعفری ہو یا عقیلی ہو یاعباسی ۔۔۔  جب مصر میں خلفاءِ فاطمیین کو حکومت ملی تو انہوں نے سید  کا لفظ فقط  حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی اولاد کے  لیے مختص کردیا، چناں چہ یہ تخصیص اس دور سے اب تک قائم ہے‘‘ ۔

 (الحاوی للفتاوی للسیوطی ۔ جلد02 ۔ صفحہ39 ۔ دارالفکر ۔ بیروت)

الدر مع الرد میں ہے:

قوله: وبني هاشم إلخ) اعلم أن عبد مناف وهو الأب الرابع للنبي صلى الله عليه وسلم أعقب أربعةً وهم: هاشم والمطلب ونوفل وعبد شمس، ثم هاشم أعقب أربعةً، انقطع نسل الكل إلا عبد المطلب؛ فإنه أعقب اثني عشر، تصرف الزكاة إلى أولاد كل إذا كانوا مسلمين فقراء إلا أولاد عباس وحارث وأولاد أبي طالب من علي وجعفر وعقيل، قهستاني، وبه علم أن إطلاق بني هاشم مما لاينبغي؛ إذ لاتحرم عليهم كلهم، بل على بعضهم، ولهذا قال في الحواشي السعدية: إن آل أبي لهب ينسبون أيضاً إلى هاشم، وتحل لهم الصدقة. اهـ.وأجاب في النهر بقوله: وأقول: قال في النافع بعد ذكر بني هاشم: إلا من أبطل النص قرابته يعني به قوله صلى الله عليه وسلم: «لا قرابة بيني وبين أبي لهب؛ فإنه آثر علينا الأفجرين»، وهذا صريح في انقطاع نسبته عن هاشم، وبه ظهر أن في اقتصار المصنف على بني هاشم كفاية، فإن من أسلم من أولاد أبي لهب غير داخل؛ لعدم قرابته، وهذا حسن جداً، لم أر من نحا نحوه، فتدبره. اهـ

(کتاب الزکوۃ،باب مصرف الزکوۃ و العشر،ج:2،ص: 350،ط:سعید)

2)  "سید" شریف النسب کی شرافت نسبی اور  نبی کریم ﷺ کی طرف نسبت یقیناً ایک بہت بڑی سعادت اور منقبت ہےجو اللہ تعالی نے اسے عطا فرمائی ہےلیکن یہ شرافت نسبی اس وقت آخرت میں نافع اور دنیا میں مستحق  تکریم زائد و تعظیم فائق ہے جبکہ شریعت کے مقتضیات کے مطابق  سیدعمل کرتا ہواور اس کے موجبات کا لحاظ کر کے شریعت کا متبع ہو اور اگر سید  شریعت کا مطیع نہ ہو بلکہ فاسق ،فاجر اور بد کردار ہو اور شرافت نسبی کالحاظ کیے بغیر سرِعام   احکام خدا وندی سے بغاوت کرتا ہوتو اس کے لیے صرف شرافت نسبی کافی نہیں ،گویا کہ اس نے شرافت نسبی کو خود ختم کر دیااور انہ لیس من اھلک کا مصداق بنا۔

علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ نے مجموعہ رسائل کے ص:876 پر لکھا ہے :

فکیف یظن احد من ذوی النسب  انتھک حرمات اللہ ولم یراع ما علیه وجب ان یبقی له حرمة و مقام عندہ علیه الصلوۃ والسلام ایزعم الغبی انه اعظم حرمة من اللہ عند نبیه ،کلا واللہ بل قلبه مغمورفی لجج الغفلة و ساہ فمن اعتقدذالک   یخشی علیه سوءالخاتمة والعیاذ باللہ

واضح رہے کہ بنو ہاشم میں صرف- آل علی رضی اللہ عنہ و آل جعفر رضی اللہ عنہ و آل عقیل رضی اللہ عنہ  و آل عباس رضی اللہ عنہ و آل حارث رضی اللہ عنہ  ہی پر  زکوۃ اور صدقات  واجبہ حرام کیے گئے باوجود یہ کہ بنو ہاشم اور بھی بہت ہیں لیکن ان کو حضورﷺ کی مخالفت کی وجہ سے آپ کی قرابت سے الگ کر دیا گیا ہے،حتی کہ ابو لہب کی وہ اولاد جو   بعد میں مسلمان ہوئی ان پر صدقات حرام نہیں کیے گئے۔

علامہ شامی نے رد المحتا ر میں لکھا ہے کہ:

وبه علم أن إطلاق بني هاشم مما لا ينبغي إذ لا تحرم عليهم كلهم بل على بعضهم ولهذا قال في الحواشي السعدية: إن آل أبي لهب ينسبون أيضا إلى هاشم وتحل لهم الصدقة. اهـ.وأجاب في النهر بقوله وأقول قال في النافع بعد ذكر بني هاشم إلا من أبطل النص قرابته يعني به قوله - صلى الله عليه وسلم - «لا قرابة بيني وبين أبي لهب فإنه آثر علينا الأفجرين» وهذا صريح في انقطاع نسبته عن هاشم، وبه ظهر أن في اقتصار المصنف على بني هاشم كفاية، فإن من أسلم من أولاد أبي لهب غير داخل لعدم قرابته وهذا حسن جدا

(کتاب الزکاۃ،باب المصرف،ج:2،ص:350،سعید)

       معلوم ہوا کہ کفر نے نسبی قرابت کومنقطع کر دیا۔   بہر حال شرافت نسبی کامل احترام کا سبب ہےلیکن شرط یہ ہے کہ اسلام اور سنت نبوی کا باغی نہ ہو ،حضور ﷺ  کے پاس  قیامت میں جب امتی پیش کیے جائیں گے تو ایک جماعت کو دوزخ کی طرف ہانکتے ہوئے لایا جائے گا ،یہ دیکھ کر آپ ﷺ فرما ئیں گے"  اصحابی اصحابی" آپ ﷺ سے کہا جائے گا" انک لا تدری ما احدثوا بعدک" تو آپ ﷺ فرما ویں گے "فسحقاً سحقاً" والتفصیل فی النووی(ج:1،ص:126) 

 حضورﷺ  باوجود ان کے امتی ہو نے کے  تبدل دین کی  وجہ سے  ان سے براءت کا اظہارفرما رہے ہیں  اس لیے ایسے سید جو مطیع نہ ہوں  بلکہ فاسق ،فاجر اور بد کردار ہوں ان کے احترام  کا حکم نہیں   ہے ، البتہ فحش گوئی اور گالی بکنا تو کسی کافر کے لیے بھی جائز نہیں   حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ان رسول اللہ ﷺ لم یکن فاحشاً ولا متفحشاً(رواہ البخاری)

اس لیے فحش گوئی کی اجازت نہیں ہو گی ،بلکہ لازم ہے کہ انہیں نرمی کے ساتھ سمجھا کر صحیح راستے پر لانے کی کوشش کی جائے تا کہ اہل بیت عذاب اخروی سے بچ جائیں۔

صحیح مسلم میں ہے:

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن بطأ به عمله، لم يسرع به نسبه

(كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار،باب فضل الاجتماع على تلاوة القرآن وعلى الذكر،ج:2،ص:349،رقم:6853،ط:رحمانیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100139

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں