بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

صحیح بخاری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست کے متعلق حدیث


سوال

کیا بخاری شریف میں کوئی ایسی حدیث ہے جس سے ثابت ہو کہ حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاست فرمائی ہے؟ 

جواب

اصولی طور پر  ہر معاملے میں صحیح بخاری کی حدیث کا  مطالبہ غلط ہے ، کیوں کہ احادیث کی بہت سی کتابیں ہیں اور  صحیح بخاری کے علاوہ  بھی بہت سی کتب میں صحیح احادیث  موجود ہیں، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست کا تذکرہ بخاری شریف کی ایک روایت میں موجود ہے، نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاست کا بلکہ بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفائے راشدین اور دیگر خلفاء کی سیاست کا بھی ذکر ہے: 

"عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كانت بنو إسرائيل تسوسهم الأنبياء، كلما هلك نبي خلفه نبي، وإنه لا نبي بعدي، وسيكون خلفاء فيكثرون…" الخ. 

(صحيح البخاري، کتاب أحادیث الأنبياء، باب ما ذكر عن بني إسرائيل، رقم الحديث: 3455، ص: 4/ 169)

ترجمہ:" آپ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں کہ  بنی اسرائیل کے انبیاء  علیہم السلام سیاست کیا کرتے تھے، جب کوئی نبی وفات پاتا تواس کی جگہ دوسرا نبی لے لیتا تھا، اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اورعنقریب خلفاء ہوں گے، اور بہ کثرت ہوں گے"۔

یعنی اس وقت سیاست کی ذمہ داری میں ادا کر رہا ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ، بلکہ خلفاء سیاست کریں گے۔ البتہ  انبیاء کی سیاست اور موجودہ سیاسی نظام میں فرق واضح ہے۔فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144312100076

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں