بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سوئم کے کھانے کا حکم


سوال

میت کے تیسرے دن کا کھانا کھلانا یا کھانا شریعت کے نقطۂ نظر سے جائز ہے یا حرام ہے تفصیلی جواب مطلوب ہے ؟

جواب

سوئم، چالیسواں یا کوئی بھی وقت، دن یا کیفیت  مخصوص کر کے ایصال ثواب کرنا شریعت میں ثابت نہیں، اس لیے اس کا  اہتمام بدعت ہے، اس موقع پر جو کھانا وغیرہ کھلایا اور کھایا جاتا ہے، اس سے  اجتناب ضروری ہے۔

البتہ  جس  گھر میں میت ہوجائے تو چوں کہ گھر والے  غم و حزن کی کیفیت میں ہوتے ہیں، اور تجہیز وتکفین کے انتظامات  اور تعزیت کے لیے آنے والے سے ملنے میں مشغول ہوتے ہیں، اس لیے   ان کے پڑوسیوں اور رشتے داروں کے لیے مستحب اور باعث اجر و ثواب ہے کہ میت کے گھر والوں کے لیے  اس دن (دو وقت) کے کھانے کا انتظام کریں اور خود ساتھ بیٹھ کر، اصرار کر کے ان کو کھلائیں،اور ضرورت ہو تو تین دن تک کھانا کھلانا بھی جائز ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"یکره اتخاذ الضیافة من الطعام من أهل المیت؛ لأنه شرع في السرور لا في الشرور وهي بدعة مستقبحة، وقوله: ویکره اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع، ونقل الطعام إلی القبرفي المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقرّآء للختم أو لقراءة سورة الإنعام أوالإخلاص".

(ردالمحتار على الدر المختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة، مطلب في كراهة الضیافة من أهل المیت، ج:2، ص:240، ط:سعید)

خلاصۃ الاحکام میں ہے:

"قَالَ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ: " ‌اصنعوا ‌لآل ‌جَعْفَر طَعَاما، فقد أَتَاهُم مَا يشغلهم " رَوَاهُ أَبُو دَاوُد، وَالتِّرْمِذِيّ."

(ج:2، ص:1049، ط:مؤسسة الرسالة)

"ترجمہ: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تيار کرو؛ کیوں کہ انہیں وہ چیز پہنچی ہے، جس نے انہیں مشغول کر دیا ہے۔"

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"والمعنى: جاءهم ما يمنعهم من الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لايشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لايستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية، ثم إذا صنع لهم ما ذكر من أن يلح عليهم في الأكل لئلايضعفوا بتركه استحياء، أو لفرط جزع، واصطناعه من بعيد أو قريب للنائحات شديد التحريم ؛ لأنه إعانة على المعصية، واصطناع أهل البيت له لأجل اجتماع الناس عليه بدعة مكروهة، بل صح عن جرير رضي الله عنه: كنا نعده من النياحة، وهو ظاهر في التحريم. قال الغزالي: ويكره الأكل منه، قلت: وهذا إذا لم يكن من مال اليتيم أو الغائب، وإلا فهو حرام بلا خلاف".

(کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثاني،ج:4، ص:194 ،ط: رشیدیه) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں