بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شعبان 1445ھ 01 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

سترہ کی مقدار


سوال

نماز میں سترہ کی مقدار کتنی ہونی چاہیے؟ پلیز فٹ میں بتائیں!

جواب

سترہ کی کم سے کم مقدار یہ ہے کہ: نمازی کے سامنے ایک ذراع/ایک ہاتھ (یعنی ہاتھ کی بڑی انگلی سے لے کر کہنی تک، دو بالشت) کے برابر لمبائی اور اس کی موٹائی کم سے کم ہاتھ کی ایک چھوٹی انگلی کے برابر ہونی چاہیے۔ یعنی اس کی لمبائی فٹ کے اعتبار سے تقریباً ڈیڑھ فٹ بنتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"حدثنا أبو الأحوص، عن سماك، عن موسى بن طلحة، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا وضع أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل فليصل، ولايبال من مر وراء ذلك»".

(صحیح مسلم، كتاب الصلاة، باب سترة المصلي/ج: 1/ صفحة:358/ رقم الحدیث:241، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويغرز) ندبا بدائع....(الإمام) وكذا المنفرد (في الصحراء) ونحوها (سترة بقدر ذراع) طولا (وغلظ أصبع) لتبدو للناظر (بقربه)(قوله بقدر ذراع) بيان لأقلها ط. والظاهر أن المراد به ذراع اليد كما صرح به الشافعية، وهو شبران (قوله وغلظ أصبع) كذا في الهداية".

( كتاب الصلاة،باب مایفسد الصلاة ومایکرہ فیها/ج:1/ صفحة:636 و637/ ط: ایچ، ایم، سعید)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144202200327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں