بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 شعبان 1445ھ 28 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سسرال والوں کی طرف سے دیے ہوئے زیورات کا حکم


سوال

ہم نے اپنے بیٹے کی شادی پانچ ماہ پہلے 21 جنوری کو کی تھی ،ہم س نے بہت خوشیوں کے ساتھ یہ شادی کی تھی ،جس لڑکی سے شادی ہوئی تھی وہ بہت تیز زبان والی تھی ،چھوٹے بڑے کا خیال نہیں کرتی تھی ،میں لڑکے کی والدہ ہوں ،اس لڑکی نے مجھے فساد کی جڑ اور بے غیرت بہت کچھ بنایاتھا،وہ لڑکی بولتی ہے کہ میں اس کو کسی حال میں برداشت نہیں کرتی ہوں ،وہ طلاق اپنے منہ مانگ چکی ہے ،پھر مکر گئی ،پہلی مرتبہ اس نے کہا کہ مجھے آزاد کرو،اور دوسری مرتبہ کہا کہ مجھے طلاق دے دو،تیسری مرتبہ کہاکہ میں خلع نامہ تیار کرکے لاؤں گی ،آپ اس پر دستخط کرناتو میں آزاد ہوجاؤں گی،غرض یہ ہے کہ تین مرتبہ اپنے منہ سے یہ مطالبہ کرچکی ہے،ماں کے گھر پچیس دن رہ کر بڑوں کی بیٹھک کے بعد ہمارے گھر واپس آئی ،اب دوبارہ اٹھائیسویں روز سے اپنی  ماں کے گھر ہے ۔

ہم نے اسے کچھ زیور چڑھایا اس کے استعمال کے لیے ،میرے بیٹے کی تنخواہ 22ہزار وپے ہے،اس لیے ہم سب نے مل کر اور دوسروں سے قرضہ لے کر اس کے لیے زیور بنایا،پھر اس نے استعمال بھی کیا ،پھر زیور کھونے کا سلسلہ شروع کردیا،پہلے زیور کھوجاتاہے سب مل کر ڈھونڈتے ہیں،پھر بھی نہیں ملتاہے،پھر دوبارہ ڈھونڈنے سے ایک دم مل جاتاہے،اس وجہ سے میرے بیٹے نے وہ زیور اپنے پاس حفاظت سے رکھ لیا،کویں کہ وہ بہت لاپرواہی دکھارہی تھی،رمضان میں ستائیسویں شب کو مجھے اور میرے بیٹے کو بہت رسوا کیا،اور کہا کہ مجھے میرا زیور چاہیے،دوسرے دن اپنے والدکو بلاکر اپنے میکے چلی گئی ۔

اب آپ سے سوال یہ ہے کہ ہم اس شادی کو ختم کرنا چاہتے ہیں،تو کیا ہم نے جو اس کے استعمال کے لیے اسے زیور چڑھایاتھا،تو کیا ہمیں وہ زیور بھی اس لڑکی کو واپس کرناہوگا۔

براہ کرم شریعت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

  صورتِ مسئولہ میں سسرال  کی طرف سے جو زیور لڑکی کودیاگیاہے ،اگرسسرال والوں نے  زیوردیتے وقت یہ صراحت کی تھی کہ یہ صرف استعمال کے لیے ہے،تو یہ زیور عاریت کے طورپر ہوگا،اور سسرال والوں کو دوبارہ لینے کا حق ہوگا،اور اگر سسرال والو ں نے زیور دیتے وقت یہ صراحت کی تھی یہ زیورلڑکی کی ملکیت ہے تو یہ لڑکی کی ملکیت ہوگا ،سسرال والوں  کو بعد میں اس زیور کے لینے کا حق نہیں ہے،اور اگر سسرال والوں نے زیور دیتے وقت کوئی صراحت نہیں کی تھی تو پھر عرف کا اعتبار ہوگا،اگر لڑکے والوں کے خاندان میں یہ عرف ہوکہ لڑکی کوجوزیوردیاجاتاہے وہ بطور عاریت کے ہوتاہے،(یعنی صرف استعمال کے لیےدیاجاتاہے)تو پھر لڑکے والوں کو زیوردوبارہ لینے کاحق ہے ،اور اگر لڑکے والوں کے خاندان میں یہ عرف ہوکہ جو زیور لڑکی کو دیاجاتاہےوہ اس کی ملکیت ہوتاہے جیساکہ عموما ً معاشرے میں یہ رواج ہے یا  لڑکے والوں کا اس سلسلے میں کوئی عرف نہ ہوتو عمومی عرف کااعتبار کرتے ہوئے یہ زیورات لڑکی کے ہوں گے اور  لڑکے والوں کو دوبارہ لینے کا حق نہیں ہے۔

العقود الدریہ  فی تنقیح  الفتاوی  الحامدیہ میں ہے :

"‌المتبرع لا يرجع بما تبرع به على غيره."

(کتاب المداینات :226/2،ط: دار المعرفۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"كل أحد يعلم الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها".

(کتاب النکاح،باب المہر، 3/158، سعید)

وفیہ أیضاً:

"والمعتمد البناء على العرف كما علمت".

(کتاب النکاح،باب المہر،157/3،سعید)             

 وفیه أیضاً:

"قلت: ومن ذلك ما يبعثه إليها قبل الزفاف في الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر، ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضاً".

(کتاب النکاح، باب المہر،3/ 153،ط: سعید)

فتاوی عالمگیری  میں ہے:

"وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية".

(کتاب النکاح، باب المهر، الفصل السادس عشر في جهاز البنت،1 / 327،رشیدیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100884

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں