بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شوال 1445ھ 13 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سسر کا اپنی بہو کو زکات دینے کا حکم


سوال

میں ایک چھوٹے سے کاروبار کا مالک ہوں ، اگرچہ میں موجودہ سامان تجارت کی کل قیمت کے بناء پر صاحبِ نصاب ہوں،لیکن کاروبار کی آمدن بہت کم ہے، جب کہ اس کی زکات تقریباً تیس ہزار بنتی ہے، کیا میں زکات کی یہ رقم اپنی بہو کو دے سکتا ہوں ،تاکہ وہ اس کی مالک بن کر اس رقم سے میری غیر شادی شدہ بیٹی کی شادی کا سامان خریدے یا میرے دوسرے زیر ِتعلیم بیٹوں کے تعلیمی اخراجات پر صرف کرے؟ واضح رہے کہ میں نے اپنی بہو کو حکماً ایسا کچھ نہیں کہا ،یہ مشورہ اسے میرے بیٹے نے دیا ہے، جب کہ وہ میرے ساتھ رہ رہا ہے اور مال میں  شریک ہے، اس کا مقصد زکات سے بچنا نہیں، بل کہ کاروبار سے آمدن کم اور تنگدستی کی بناء پر ایسا کیا جائے گا ، جب کہ کچھ رقم دیگر مستحقین کو بھی دی جائے گی، براہ کرم مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ 

جواب

واضح رہےکہ    اگر کوئی  مسلمان شخص غریب اور ضروت مند ہے،اور اس کی ملکیت میں اس کی ضرورتِ  اصلیہ سے زائد اتنی رقم یا سامان نہیں ہے ،جس کی قیمت نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی)کے برابر ہے، اور وہ سید،ہاشمی،عباسی،علوی یا جعفری نہیں  ہے ،تو اس شخص کو زکاۃ دینا جائز ہے، اور اس کو زکاۃ دینے سے زکاۃ ادا ہوجائے گی،اور  زکاۃ کی ادائیگی صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ زکاۃ کی رقم مستحق شخص کو غیر مشروط طور پر  مالک بناکر دی جائے،اور زکات    اپنے اصول (والدین ،دادا/دادی، نانا، نانی وغیرہ) وفروع(بیٹا/ بیٹی، پوتے /پوتی، نواسے/ نواسی وغیرہ) کو دینا جائز نہیں ہے،لہذاصورتِ مسئولہ میں بہو رشتہ کے اعتبار سے ایسی نہیں کہ مستحق زکات نہ بن سکتی ہو،لیکن اس مقصد کے لیے بہو کو زکات دیتا ہے کہ  بہو زکات کی رقم خود استعمال کرنے کے بجائے زکات دھندہ کے گھر میں ہی صرف کرے،تو یہ  منشاء زکات کے خلاف ہے،اس طرح کے حیلوں سے اجتناب کرنا چاہیے،تا ہم    اگر بہو غریب ہے،کسی قسم کے  نصاب کی مالک نہیں ہے،تو اس کو زکات دینے سے زکات ادا ہو جائے گے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما ركن ‌الزكاة فركن ‌الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير وتسليمه إليه."

(كتاب الزكاة، فصل ركن الزكاة، ج:2، ص:39، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرعا (تمليك)خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم."

(كتاب الزكاة، ج:2، ص:257، ط: سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لايجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي........ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية. ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:189، ط: رشیدیة)

و فیہ ایضاً:

"و لايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي."

(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط: رشیدیة)

فتاوی شامی میں ہے:

"وإذا ‌فعله ‌حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبو يوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير.

وفي المحيط أنه الأصح.وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا، وكذا الخلاف في حيلة دفع الشفعة قبل وجوبها.

وقيل الفتوى في الشفعة على قول أبي يوسف، وفي الزكاة على قول محمد، وهذا تفصيل حسن شرح درر البحار."

(كتاب الزكوة، ج:2، ص:284، ط: سعيد)

بنایہ میں ہے:

"(‌الحيلة في إسقاط الزكاة) ش: فعند أبي يوسف - رحمه الله -: لا يكره، وعند محمد: تكره.وقيل: الفتوى على قول أبي يوسف في الشفعة، وعلى قول محمد في الزكاة، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(‌‌كتاب الشفعة‌‌، باب ما يبطل به الشفعة، فصل الحيل في الشفعة، ج:11، ص:387، ط:  دار الكتب العلمية)

 بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو دفع إلى امرأة فقيرة وزوجها غني جاز في قول أبي حنيفة ومحمد وهو إحدى الروايتين عن أبي يوسف .وروي عنه أنها لاتعطي إذا قضي لها بالنفقة. وجه هذه الرواية أن نفقة المرأة تجب على زوجها فتصير غنيةً بغنى الزوج كالولد الصغير، وإنما شرط القضاء لها بالنفقة ؛ لأن النفقة لاتصير دينًا بدون القضاء . وجه ظاهر الرواية أن المرأة الفقيرة لاتعد غنيةً بغنى زوجها؛ لأنها لاتستحق على زوجها إلا مقدار النفقة فلاتعد بذلك القدر غنية."

(كتاب الزكاة، فصل شرائط ركن الزكاة، ج:2، ص:47، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144507100576

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں