بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1446ھ 15 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورۃ البقرۃ کی دو آیتوں (284 و286) میں تعارض کا حل


سوال

(1): لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ"  (سورة البقرة:284)

(2): "لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا" (سورۃ البقرة:286)

پہلی آیت میں ذکر ہے کہ جو کچھ تم (خیالات اچھے یا برے )اپنے دلوں میں ظاہر کرتے ہو یا چھپاتے ہو اللہ تعالی اس پر بھی تمہارا محاسبہ کریں گے، جب کہ دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالی کسی نفس کو اس کا مکلف نہیں بناتے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا، ان دونوں آیات میں بظاہر تعارض معلو م ہو رہا ہے اس کا کیا جواب ہے ؟

جواب

مفسرین کرامؒ  نے  ان آیات کی مختلف توجیہات ذکر فرمائی ہیں :

(1): پہلی آیت میں وساوسِ اختیاریہ مراد ہیں ،یعنی وہ خیالاتِ فاسدہ جس کو انسان اپنے دل  میں  اپنے اختیار سےجگہ دیتاہے، اُن پر مؤاخذہ ہو گا، اور دوسری آیت  میں  وساوسِ غیر اختیاریہ مراد ہیں، یعنی وہ خیالات جو انسان کے دل میں بےاختیار آجاتے ہیں، اُن پر مؤاخذہ نہیں ہو گا۔

(2): پہلی آیت دوسری آیت سے منسوخ ہے، جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت  میں ذکر ہے ۔

(3): پہلی آیت میں اثباتِ محاسبہ ہے ، اور  دوسری آیت میں نفئ مؤخذہ ہے ، یعنی دل میں آنے والے برے خیالات (خواہ اختیاریہ ہوں یا غیر اختیاریہ) کا  حساب تو ہو گا ،مگر  جب تک اُن کے مقتضیٰ پر عمل نہ کیا ہو، اُن پر مؤاخذہ   وپکڑ نہیں ہوگی، اور محاسبہ چوں کہ مؤاخذہ کو مستلزم نہیں، لہٰذا ان آیات میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے۔

تفسیرِ خازن میں ہے:

"يروى عن ابن عباس ويدل عليه أنه قال: ‌يحاسبكم به الله ولم يقل: يؤاخذكم به لأن المحاسبة غير المؤاخذة ويدل عليه أيضا ما روي عن صفوان بن محرز المازني قال: بينما ابن عمر يطوف إذ عرض له رجل فقال: يا أبا عبد الرحمن أخبرني ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في النجوى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «يدني المؤمن من ربه حتى يضع عليه كنفه فيقرره بذنوبه تعرف ذنب كذا وكذا فيقول: أعرف رب أعرف مرتين فيقول الله: سترتها عليك في الدنيا وأنا أغفرها لك اليوم ثم تطوى صحيفة حسابه، وأما الآخرون وهم الكفار والمنافقون فينادى بهم على رؤوس الخلائق هؤلاء الذين كذبوا على ربهم ألا لعنة الله على الظالمين» أخرجاه في الصحيحين."

(تفسير سورة البقرة، ١/ ٢١٨، ط:دارالكتب العلمية)

صحیح مسلم میں ہے :

"عن ‌أبي هريرة قال: « لما نزلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم: {لله ما في السماوات وما في الأرض وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه يحاسبكم به الله فيغفر لمن يشاء ويعذب من يشاء والله على كل شيء قدير} قال: فاشتد ذلك على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم بركوا على الركب، فقالوا: أي رسول الله، كلفنا من الأعمال ما ‌نطيق: الصلاة والصيام والجهاد والصدقة، وقد أنزلت عليك هذه الآية ولا نطيقها، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتريدون أن تقولوا كما قال أهل الكتابين من قبلكم: سمعنا وعصينا، بل قولوا: {سمعنا وأطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير} قالوا: {سمعنا وأطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير} فلما اقترأها القوم ذلت بها ألسنتهم، فأنزل الله في إثرها {آمن الرسول بما أنزل إليه من ربه والمؤمنون كل آمن بالله وملائكته وكتبه ورسله لا نفرق بين أحد من رسله وقالوا سمعنا وأطعنا غفرانك ربنا وإليك المصير}۔"

(‌‌باب بيان قوله تعالى وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه، ١/ ٨٠، ط:دارالطباعة العامرة)

تفسیر بیان القرآن میں ہے:

خلاصہ تفسیر

"اللہ ہی کی ملک میں ہیں سب (مخلوقات ) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں (جیسے خود زمین و آسمان بھی اسی کی ملک میں ہیں) اور (جب وہ مالک ہیں تو ان کو اپنی مملوکہ اشیاء میں ہر طرح قانون بنانے کا حق ہے اس میں مجال کلام نہ ہونی چاہئے جیسا کہ ایک قانون یہ ہے کہ ) جو باتیں (عقائد فاسدہ یا اخلاق مذمومہ یا گناہوں پر پختہ عزم وارادہ کی ) تمہارے نفسوں میں ہیں ان کو اگر تم (زبان وجوارح سے) ظاہر کرو گے (مثلا زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا یا اپنے تکبر حسد وغیرہ کا خود اظہار کردیا یا کسی گناہ جس کا قصد تھا اسی کو کر ہی ڈالا) یا کہ (دل ہی میں) پوشیدہ رکھو گے (دونوں حالتوں میں) حق تعالیٰ تم سے (مثل دوسرے معاصی کے ان کا) حساب لیں گے پھر (حساب لینے کے بعد بجز کفر و شرک کے) جس کے لئے (بخشنا ) منظور ہوگا بخش دیں گے اور جس کو (سزا دینا ) منظور ہوگا سزا دیں گے اور اللہ تعالیٰ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں ۔"

(تفسیر سورۂ بقرۃ : ١/ ٦٨٩، ط:مکتبۃ المعارف)

پھر آگے فرماتے ہیں:

"اس کے بعد دوسری آیت میں ایک خاص انداز سے وہ شبہ دور کیا گیا جو پچھلی آیت کے بعض جملوں سے پیداہو سکتا تھا کہ دل میں چھپے ہوئے خیالات پر حساب ہوا تو عذاب سے کیسے بچیں گے۔ ارشاد فرمایا" لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا"یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زائد کام کا حکم نہیں دیتے اس لئے غیر اختیاری طور پر جو خیالات و وسوسے دل میں آجائیں اور پھر ان پر کوئی عمل نہ ہو تو وہ سب اللہ تعالیٰ کے نزدیک معاف ہیں حساب اور مؤ اخذہ صرف ان افعال پر ہوگا جو اختیار اور ارادہ سے کئے جائیں ۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ جس طرح انسان کے اعمال وافعال جو ہاتھ ، سر، آنکھ اور زبان وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کو اعمال ظاہرہ کہا جاتا ہے ان کی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جو ارادہ اور اختیار سے کئے جائیں جیسے ارادہ سے بولنا ارادہ سے کسی کو مارنا دوسرے غیر اختیاری جو بلا ارادہ سرزد ہوجائیں جیسے زبان سے کہنا چاہتا تھا کچھ اور نکل گیا کچھ یا رعشہ سے بلا اختیار ہاتھ کی حرکت ہوئی اس سے کسی کو تکلیف پہنچ گئی ان میں سب کو معلوم ہے کہ حساب و کتاب اور جزاء وسزا افعال اختیار یہ کے ساتھ مخصوص ہیں افعال غیر اختیاریہ کا نہ انسان مکلف ہے نہ ان پر اس کو ثواب یا عذاب ہوتا ہے۔
اسی طرح وہ افعال جن کا تعلق باطن یعنی دل کے ساتھ ہے ان کی بھی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جیسے کفر و شرک کا عقیدہ جس کو قصد واختیار کے ساتھ دل میں جمایا ہے یا سوچ سمجھ کر ارادہ کے ساتھ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا جس کو تکبر کہا جاتا ہے یا پختہ ارادہ کرنا کہ شراب پیوں گا، اور دوسرے غیر اختیاری مثلاً بغیر قصد وارادہ کے دل میں کسی برے خیال کا آجانا ان میں بھی حساب و کتاب اور مؤ اخذہ صرف اختیاری افعال پر ہے غیر اختیاری پر نہیں ۔
اس تفسیر سے جو خود قرآن نے بیان کردی۔ صحابہ کرام (رض) اجمعین کو اطمینان ہوگیا کہ غیر اختیاری وساوس وخیالات کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب وثواب نہ ہوگا اسی مضمون کو آخر میں اور زیادہ واضح کرنے کے لئے فرمایا ہے لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْیعنی انسان کو ثواب بھی اس کام کا ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے اور عذاب بھی اس کام پر ہوتا ہے جو ارادہ سے کرے۔
اور مراد یہ ہے کہ ابتداءً بلاواسطہ اس عمل کا ثواب یا عذاب ہوگا جو قصد وارادہ سے کرے کسی ایسے عمل کا ثواب و عذاب بالواسطہ ہوجانا جس کا اس نے ارادہ نہیں کیا اس کے منافی نہیں، اس سے اس شبہ کا جواب ہوگیا کہ بعض اوقات آدمی کو بلاقصد وارادہ بھی ثواب یا عذاب ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کی دوسری آیات اور بہت سی روایات حدیث سے ثابت ہے کہ جو آدمی کوئی ایسا نیک کام کرے جس سے دوسرے لوگوں کو بھی اس نیکی کی توفیق ہوجائے تو جب تک لوگ یہ نیک کام کرتے رہیں گے اس کا ثواب اس پہلے والے کو بھی ملتا رہے اسی طرح اگر کسی شخص نے کوئی طریقہ گناہ کا جاری کیا تو آئندہ جتنے لوگ اس گناہ میں مبتلا ہوں گے اس کا وبال اس شخص کو بھی پہنچے گا جس نے اول یہ برا طریقہ جاری کیا تھا، اسی طرح روایات حدیث سے ثابت ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کا ثواب دوسرے آدمی کو دینا چاہے تو اس کو یہ ثواب پہنچتا ہے۔ ان سب صورتوں میں بغیر قصد وارادہ کے انسان کو ثواب یا عذاب ہورہا ہے۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ یہ ظاہر ہے کہ یہ ثواب و عذاب بلاواسطہ اس کو نہیں پہنچا بلکہ دوسرے کے واسطے سے پہنچا ہے اس کے علاوہ جو واسطہ بنا ہے اس میں اس کے اپنے عمل اور اختیار کو بھی دخل ضرور ہے کیونکہ جس شخص نے کسی کا ایجاد کیا ہوا اچھا یا برا طریقہ اختیار کیا اس میں پہلے شخص کے عمل اختیاری کا دخل ضروری ہے اگرچہ اس نے اس خاص اثر کا ارادہ نہ کیا ہو اس طرح کوئی کسی کو ایصال ثواب جبھی کرتا ہے جب اس نے اس پر کوئی احسان کیا ہو اس لحاظ سے یہ دوسرے کے عمل کا ثواب و عذاب بھی درحقیقت اپنے ہی عمل کا ثواب یا عذاب ہے۔
بالکل اخیر میں قرآن کریم نے مسلمانوں کو ایک خاص دعا کی تلقین فرمائی جس میں بھول چوک اور بلاواسطہ خطاء کسی فعل کے سرزد ہونے کی معافی طلب کی گئی فرمایا "رَبَّنَا لَا تُؤ َاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا" اے ہمارے پروردگار بھول چوک اور خطاء پر ہم سے مؤ اخذہ نہ فرما پھر فرمایا" رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَارَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَابِهٖ" یعنی اے ہمارے پروردگار ہم پر بھاری اور سخت اعمال کا بوجھ نہ ڈالئے جیسا ہم سے پہلے لوگوں (بنی اسرائیل ) پر ڈالا گیا ہے اور ہم پر ایسے فرائض عائد نہ فرمائیے جن کی ہم طاقت نہیں رکھتے۔
اس سے مراد وہ سخت اعمال ہیں جو بنی اسرائیل پر عائد تھے کہ کپڑا پانی سے پاک نہ ہو بلکہ کاٹنا یا جلانا پڑے اور قتل کے بغیر توبہ قبول نہ ہو یا مراد یہ ہے کہ دنیا میں ہم پر عذاب نازل نہ کیا جائے جیسا کہ بنی اسرائیل کے اعمال بد پر کیا گیا اور یہ سب دعائیں حق تعالیٰ نے قبول فرمانے کا اظہار بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ کردیا۔"

(تفسیر سورۂ بقرۃ : ١/ ٢٩٦،ط:مکتبۃ  المعارف)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506102515

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں