بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

سفر سے واپسی پر متعدد بیویاں ہونے کی صورت میں کس کے ساتھ رات پہلے گزارے


سوال

 ایک شخص کی دو بیویاں ہیں ،دونوں کے درمیان شب باشی میں برابری   چل رہی تھی ،ایک مرتبہ ایک عورت کے ساتھ دو راتیں گزاری،پھر   وہ بیوی اپنے میکے چلی گئی، بعد ازاں دوسری بیوی کیساتھ آٹھ رات گزاریں اور پھرشوہر سفر پر چلا گیا ۔

دوسری صورت میں ہر ایک بیوی کےلئے شب باشی گزارنے میں باری مقرر کی گئی ،اس دوران ایک بیوی کے ساتھ ایک رات گزاری پھر وہ   اپنے میکے چلی گئی ۔پھر دوسری بیوی کےساتھ ایک رات گزار ی اور پھر  شوہر خود سفر پر چلا گیا ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شوہر سفر سے لوٹنے کے بعد اوّلا کس کےساتھ شب باشی کرےگا ۔

جواب

صورت مسؤلہ میں چونکہ  پہلی صورت  میں ایک  بیوی کے  ساتھ دو راتیں  گزارنے کے بعد دوسری بیوی کے ساتھ  آٹھ راتیں گزار کر شوہر سفر پر چلا گیا تھا لہذا سفر سے واپسی کے  بعد پہلے اس بیوی کے ساتھ چھ راتیں گزارے  جس کےساتھ پہلےدوراتیں گزاری تھیں ،تاکہ بر ابر ی ہوجائے۔

دوسری صورت میں    سفر سے پہلے جس بیوی کےساتھ آخری رات گزاری تھی اب سفر سےلوٹنے کی صورت  میں اس کےعلاوہ دوسری بیوی کے ساتھ پہلے رات گزارے۔

مشکاۃ شریف میں ہے:

"عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقسم بين نسائه فيعدل ويقول: اللهم هذا قسمي فيما أملك فلاتلمني فيما تملك ولاأملك». رواه الترمذي وأبوداود."

(مشکاۃ المصابیح،باب القسم، الفصل الثاني، ص: 279، ط: قديمي)

دوسری حدیث میں ہے:

"وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط». رواه الترمذي وأبوداود". 

(مشکاۃ المصابیح،باب القسم، الفصل الثاني، ص: 279، ط: قديمي)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(يجب) وظاهر الآية أنه فرض، نهر (أن يعدل) أي أن لايجور  (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانةً أحيانًا. ولايبلغ الإيلاء إلا برضاها، ويؤمر المتعبد بصحبتها أحيانًا، وقدره الطحاوي بيوم وليلة من كل أربع لحرة، وسبع لأمة، ولو تضررت من كثرة لم تجز الزيادة على قدر طاقتها، والرأي في تعيين المقدار للقاضي بما يظن طاقتها، نهر بحثًا.

(ردالمحتارعلیٰ الدرالمختار،باب القسم 3 /201، 202، ط: سعيد)

  فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144401101269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں