بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سوره دهر ميں حرف ھل کے معانی


سوال

سورۃ الدھر ميں لفظ "هل ا تي "كن معنوں ميں استعمال ہوا ہے؟

جواب

سورۃ الدھر کی ابتدائی آیت کے مصداق ميں مفسرين كے كئی اقوال ہيں :

1۔ایک قول یہ ہے کہ یہاں پر حرف"ھل"براۓ استفہام تقریری ہے ،استفہام تقریری کامطلب یہ ہے کہ بدیہی اور کھلی ہوئی چیز کو بصورت استفہام ذکر کیا جاۓ تاکہ اس کا واضح ہونا اور مؤکد ہوجائےکہ جس سے پو چھوگےیہی جواب دے گا ،دوسرا احتمال ہی نہیں ،جیسے نصف النہار کے وقت کو ئی کسی سے پوچھے کہ کیا یہ دن نہیں ہے ؟اس کی صورت تو استفہا م کی ہے مگر درحقیقت اس کے انتہائی واضح ہونے کا بیان ہے اس صورت میں  آیت کا معنی ٰ یہ ہے "کیا نہیں گزراانسان پر ایک ایسا وقت زمانہ میں   کہ وہ نہیں تھا ایسی چیز جو قابل ذکرہو "(معارف القرآن للکاندھلویؒ)۔

2۔ایک قول یہ ہے کہ  یہاں پر ہمزہ برائے استفہام  تقریری مقدر ہے( یعنی اصل عبارت یوں ہے "أھل أتیٰ")اور حرف"ھل"قد کے معنی میں ہے جو   تقریب الماضی من الحال(ماضی کو حال سے قریب کرنے)  کے لیے ہے ،اور ساتھ ہمزہ استفہام کے قائم مقام ہونے کی وجہ سےاس کے معنی پر بھی دلالت کرتا ہے ،لہذا اس صورت میں حرف "ھل" استفہام تقریری اور     تقریب الماضی من الحالدونوں معنی اداکرتا ہے،اب یہ آیت کا معنی یہ ہوگا "کہ کیا قریب زمانہ میں انسان پر ایسا وقت نہیں گزرا ہے جس میں وہ کوئی قابل تذکرہ چیز نہ تھا "۔

3۔ایک قول یہ ہے کہ  یہاں پر حرف"ھل"قد "برائےتحقیق "کے معنی میں ہے ،اور آیت کا معنی یہ ہے "بے شک انسان پر ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے جس میں وہ کوئی چیز قابل تذکرہ نہ تھا (بیان القرآن)۔

4۔ایک قول یہ ہے کہ یہاں پر حرف"ھل "انکار کے معنی میں ہے  ،اور آیت کا معنی یہ ہے " کچھ زمانہ پہلے انسان پر اللہ کے علاوہ کوئی قادر نہیں تھا"۔

تفسیرروح المعانی میں ہے :

"هل أتى على الإنسان حين من الدهر لم يكن شيئا مذكورا أصله على ما قيل أهل على أن الإستفهام للتقرير أي الجمل على الإقرار بما دخلت عليه والمقرر به من ينكر البعث وقد علم أنهم يقولون نعم قد مضى على الإنسان حين لم يكن كذلك فيقال فالذي أوجده بعد إن لم يكن كيف يمتنع عليه إحياؤه بعد موته وهل بمعنى قد وهي للتقريب أي تقريب الماضي من الحال فلما سدت هل مسد الهمزة دلت على معناها ومعنى الهمزة معا ثم صارت حقيقة في ذلك فهي للتقرير والتقريب...وعن ابن عباس وقتادة هي هنا بمعنى قد وفسرها بها جماعة من النحاة كالكسائي وسيبويه والمبرد والفراء وحملت على معنى التقريب، ومن الناس من حملها على معنى التحقيق وقال أبو عبيدة: مجازها قد أتى على الإنسان وليس باستفهام وكأنه أراد ليس باستفهام حقيقة وإنما هي للاستفهام التقرير."

(‌‌سورة الإنسان :76،الآیۃ:1،ج:10،ص:166،ط:دار الكتب العلمیۃ- بيروت)

تفسیر روح البیان میں ہے :

"وقد يجيئ بمعنى الجحد تقول وهل يقدر أحد على مثل هذا فتحمله على أن يقول لا يقدر أحد غيرك على الإنسان قبل زمان قريب."

(سورۃالإنسان :76،الآیۃ:1،ج:10،ص:259،ط:دارالفکر-بیروت)

تفسیرکبیرمیں ہے :

"اتفقوا على أن (هل) هاهنا وفي قوله تعالى: هل أتاك حديث الغاشية [الغاشية: 1] بمعنى قد، كما تقول: هل رأيت صنيع فلان، وقد علمت أنه قد رآه، وتقول: هل وعظتك هل أعطيتك، ومقصودك أن تقرره بأنك قد أعطيته ووعظته، وقد تجيء بمعنى الجحد، تقول: وهل يقدر أحد على مثل هذا"

(سورۃالإنسان :76 الآیۃ:1،ج:30،ص:739،ط:داراحیاءالتراث العربی -بیروت)

تفسیرکشاف میں ہے:

"هل بمعنى «قد» في الاستفهام خاصة، والأصل: أهل، بدليل قوله:أهل رأونا بسفع القاع ذى الأكم «3»فالمعنى: أقد أتى؟ على التقرير والتقريب جميعا"

(سورۃ الإنسان :76،الآیۃ :1،ج:4،ص:665،ط:دارالکتاب العربی -بیروت)

معارف القرآن میں ہے:

"حرف ھل دراصل  استفہام کے لئے آتاہے اور بعض اوقات کوئی بدیهي اور کھلی ہوئی چیز  کو بصورت  استفہام اس لئے تعبیر کیا جاسکتاہے کہ اس کا واضح ہونا اور مؤکد ہوجائے کہ جس              سے پوچھو گے یہی جواب دے گا ،دوسرااحتمال ہی نہیں جیسے کوئی شخص نصف النہار کے وقت کسی سے کہے کہ کیا یہ دن نہیں ہے اس کی صورت تو استفہام کی ہے مگر درحقیقت اس         کے انتہائی واضح ہونے کا بیان ہے ۔اس لئے ایسے مواقع میں بعض حضرا ت نے فرمایا کہ اس جگہ پر حرف ھل بمعنی قد ہے جو تحقیق واقع کے لئے بولاجاتاہے۔"

(سورۃ الدھر ج:8،ص:635،ط:مکتبہ معارف القرآن کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508100837

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں