بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سورج طلوع ہونے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت سے متعلق روایت کی تخریج وتشریح


سوال

کیا ایسی کوئی حدیث ہے جس میں طلوعِ آفتاب کے وقت شیطان کے سینگوں کا ذکر ہے؟ اگر ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے سورج نکلنے کا مطلب کیا ہے؟ نیز اس وقت نماز پڑھنے سے کیوں منع کیا گیا ہے؟

جواب

۱۔سوال میں  جس حدیث کے متعلق دریافت کیاگیا ہے، یہ حدیث"صحيح البخاري"، "صحيح مسلم"،"سنن أبي داود"، "سنن النسائي"،"سنن ابن ماجه"ودیگر کتبِ حدیث میں  مذکور ہے۔"صحيح البخاري"میں اس حدیث کے  الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدّثنا محمّدٌ، أخبرنا عبدة عن هشام بن عروة عن أبيه عن ابن عمر -رضي الله عنهما- قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: إذا طلع حاجبُ الشّمس فدَعُوا الصّلاة حتى تبرُزَ، وإذا غاب حاجبُ الشّمس فدَعُوا الصّلاة حتى تغِيبَ، ولا تَحيَّنُوا بِصلاتِكم طلوعَ الشّمس ولا غروبَها؛ فإنّها تَطلعُ بين قَرْنَيْ شَيطان، أو الشّيطان. لا أدرِيْ أيَّ ذلك، قال هشامٌ".

ترجمہ:

’’حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب سورج کاکنارہ نکل آئے تو نماز چھوڑ دو(یعنی اس وقت  نماز نہ پڑھو)یہاں تک کہ سورج خوب ظاہر ہوجائے(یعنی ایک نیزہ کے بقدر بلند ہوجائے)،اور جب سورج کاکنارہ ڈوب جائے تو  نماز چھوڑ دو(یعنی اس وقت نماز نہ پڑھو) یہاں تک کہ وہ بالکل غروب ہوجائے،اور سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو؛اس لیے کہ سورج شیطان کے دونوں  سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے‘‘۔

(صحيح البخاري، كتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، 4/122، رقم:3272، ط:دار طوق النجاة)

۲۔مذکورہ حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ سورج ،شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سورج کے طلوع ہونے سے کامطلب یہ  ہے کہ اس کے سر کی دونوں جانبوں کے درمیان  سورج  طلوع ہوتاہے ،یعنی شیطان، سورج طلوع ہونے کے وقت سورج کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے، تاکہ سورج اس کے سر کی دونوں جانبوں کے درمیان  طلوع ہو، اور اس حرکت سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے  کہ جولوگ سورج کو پوجتے ہیں ان کا سجدہ  سورج کی بجائے اس کے لیے ہوجائے   ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا  ہے، تاکہ عبادت کرنے میں  سورج کے پجاریوں کے ساتھ  مشابہت نہ ہو۔

"فتح الباري شرح صحيح البخاري"میں ہے:

"حَاجبُ الشمس: هو طرفُ قُرْصها الذي يبدُو عند طلوع الشمس ويبقى عند الغروب، وقَرْنا الشّيطانِ جَانِبا رأسِه، يُقال: إنّه يَنتصبُ في مُحاذاة مَطلعِ الشّمس حتّى إذا طلعتْ كانتْ بين جانِبَيْ رأسِه لِتقعَ السّجدةُ له إذا سجد عَبَدةُ الشّمس لها، وكذا عِند غُروبِها، وعلى هَذا فقولُه:(تَطلعُ بَين قَرْنَيِ الشّيطان) أيْ بِالنسبة إلى مَن يُشاهِدُ الشّمس عِند طُلوعِها، فلَوْ شاهدَ الشّيطان لَرآهُ مُنتصِباً عِندهَا".

(فتح الباري،  كتاب بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، 6/340، رقم:3272، ط: دار المعرفة-بيروت)

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"(فإنّها) أي: الشّمسُ (تَطلعُ بين قَرْنَيِ الشّيطان) : أيْ: جانِبَيْ رأسِه، وذلك؛ لأنّ الشيطان يرصُد وقت طلوع الشّمس فينتصبُ قائماً في وجه الشّمس مُستقبِلاً لِمن سجد للِشّمس؛ لِينقلبَ سجودُ الكفّار لِلشّمس عِبادةً له، فنهى النبيُّ -صلّى الله عليه وسلّم- أمَّتَه عن الصّلاة في ذلك الوقت؛ لِتكُونَ صلاةُ مَنْ عَبَدَ الله في غيرِ وقتِ عبادةِ مَنْ عَبَدَ الشّيطان، ويحتملُ أنْ يكون مِن باب التّمثيل، شَبَّه تَسويلَ الشّيطان لِعَبَدة الشمسِ عِبادتَها، وحَثَّه إيَّاهم على سُجودِها بِحملِه إيَّاها بِرأْسِه إليهم واطِّلاعِه عليهم،وقِيلَ: المرادُ بِقَرْنَيْه حِزباهُ السَّابِقُون واللَّاحِقُون بِاللَّيل والنَّهار، وقِيلَ: جُنداهُ اللَّذان يَبعثُهما حِينئِذٍ لِإغراءِ الناسِ،وقِيلَ: هُو مِن بابِ التخييلِ تَشبِيهاً له بِذواتِ القُرونِ الَّتي تُناطِحُ الأشياءَ؛ لأنَّ اللَّعِينَ مُناطِحٌ لِلحقِّ ومُدافِعٌ لهُ.قال الطِّيِبُّي: والمختارُ هُو الوجهُ الأوَّلُ".

(مرقاة المفاتيح، كتاب الصلاة، باب المواقيت، 2/518، ط: دار الفكر-بيروت)

’’مظاہرِ حق‘‘ میں ہے:

’’شیطان کے دونو ں سینگوں کے درمیان آفتاب نکلنے کامطلب:

شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان  آفتاب نکلنے کا مطلب اس کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان آفتاب کانکلنا ہے، یعنی شیطان،طلوعِ آفتاب کے وقت آفتاب کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے ،تاکہ آفتاب اس کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان نکلے ، اور اس حرکت سے اس کا مقصد یہ ہوتا  ہے کہ جو لوگ آفتاب کو پوچتے ہیں شیطان ان کا قبلہ بن جائے ،چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے کو منع  فرمایا ہے تاکہ خدا کے ان باغیوں کے ساتھ مشابہت  نہ ہو‘‘۔

(مظاہرِ حق جدید،ج:۱،ص:۶۷۱،ط:دار الاشاعت،کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144508102048

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں