بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورہ حج کا دوسرا سجدہ کرنے کا حکم


سوال

17 پارے کے آخر میں جو دوسرا سجدہ ہے اگر وہ نماز میں کر لیں تو کیا حکم ہے ؟

جواب

سورۃ حج (۱۷ پارے) کا دوسرا سجدہ احناف کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے، لہذا اگر کوئی نماز میں الگ سے اس آیت پر سجدہ کرے گا تو پھر سجدہ سہو لازم ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(منها أولى الحج) أما ثانيته فصلاتية لاقترانها بالركوع.

(قوله لاقترانها بالركوع) لأن السجدة متى قرنت بالركوع كانت عبارة عن السجدة الصلاتية كما في قوله تعالى {واسجدي واركعي} [آل عمران: 43] بدائع.

(قوله خلافا للشافعي وأحمد) حيث اعتبرا كلا من سجدتي الحج ولم يعتبرا سجدة ص كما في غرر الأفكار."

(کتاب الصلاۃ، باب سجدہ التلاوۃ، ج نمبر ۲، ص نمبر ۱۰۴، ایچ ایم سعید)

امداد الاحکام میں ہے:

"سوال: نماز تراویح میں" اقترب للناس" کے دوسر سجدہ تلاوت پر کو امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک واجب ہے، سجدہ کیا تو نماز میں کوئی نقص تو نہیں آیا؟

الجواب: کچھ نقص نہیں آیا، اگر یہ سجدہ کرنے والا عالم ہو اور اس کو دلیل سے امام شافعی کے قول کی قوت معلوم ہوگئی ہو اور اگر یہ بات نہ ہو تو پھر اس سجدہ سے اس شخص پر سجدہ سہو لازم آوے گا کیونکہ اس کے امام کے نزدیک اس جگہ سجدہ نہیں تو اس نے نماز میں بلا ضرورت ایک سجدہ بڑھا دیا جس سے تاخیر رکن لازم آئی جو موجب سجدہ سہو ہے۔"

(کتاب الصلاۃ ،فصل فی سجود التلاوۃ، ج نمبر ۱، ص نمبر  ۶۸۹،متکبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101609

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں