بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سورۂ انبیاء کی آیت 105 کی تفسیر


سوال

سورہ الانبیاء کے آخری رکوع میں اللّٰہ نے آسمانی کتاب زبور کی کس پیشن گوئی کا ذکر کیا ہے؟

جواب

سورۂ انبیاء میں ہے :

{ وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ} [الأنبياء: 105]

ترجمہ : اور ہم نے لکھ دیا ہے زبور میں نصیحت کے پیچھے کہ آخر زمین پر مالک ہوں گے میرے نیک بندے۔(از معارف القرآن)

مذکورہ آیت میں  نیک بندوں کے لیے زمین کے وارث ہونے کی  پیش گوئی کی گئی ہے۔ اگر زمین سے مراد جنت ہے (جیسا کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے صراحت کی ہے) تو یہ پیش گوئی آخرت میں مکمل ہوگی اور اگر زمین سے مراد دنیاوی زمین ہے تو آیت کا مطلب ہے کہ آئندہ زمانے میں ایسا وقت بھی آئے گا جب نیک لوگوں کی حکومت زمین پر ہوگی جیسا کہ مسلمان خلفاء کے زمانے میں ایسا ہو چکا۔ 

معارف القرآن  میں مفتی شفیع صاحب اس آیت کے ذیل میں تحریر فرماتے ہیں :

وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ

لفظ زبور، زبر کی جمع ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں اور زبور اس خاص کتاب کا نام بھی ہے جو حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہوئی۔ اس جگہ زبور سے کیا مراد ہے اس میں اقوال مختلف ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ذکر سے مراد آیت میں تورات ہے اور زبور سے مراد وہ سب کتابیں ہیں جو تورات کے بعد نازل ہوئیں ۔ انجیل، زبور داؤد۔ اور قرآن (اخرجہ ابن جریر) یہی تفسیر ضحاک سے بھی منقول ہے۔ اور ابن زید نے فرمایا کہ ذکر سے مراد لوح محفوظ ہے اور زبور سے مراد تمام کتابیں جو انبیاءعلیہم السلام پر نازل ہوئی ہیں ۔ زجاج نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ (روح المعانی)

الْاَرْضَ، اس جگہ ارض سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ارض جنت ہے۔ ابن جریر نے ابن عباس سے یہ تفسیر نقل کی ہے اور یہی تفسیر مجاہد، ابن جبیر، عکرمہ، سدی اور ابو العالیہ سے بھی منقول ہے۔ امام رازی نے فرمایا کہ قرآن کی دوسری آیت اسی کی موید ہے جس میں فرمایاوَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَـتَبَوَّاُ مِنَ الْجَــنَّةِ حَيْثُ نَشَاۗءُ، اور آیت میں جو یہ فرمایا کہ اس ارض کے وارث صالحین ہوں گے یہ بھی اسی کا قرینہ ہے کہ ارض سے ارض جنت مراد ہو ۔ دنیا کی زمین کے وارث تو مومن کافر سبھی ہو جاتے ہیں ۔ نیز یہ کہ یہاں صالحین کا وارث ارض ہونا ذکر قیامت کے بعد آیا ہے اور قیامت کے بعد جنت کی زمین کے سوا کوئی دوسری زمین نہیں ۔ اور حضرت ابن عباس کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس ارض سے مراد عام ارض ہے دنیا کی زمین بھی اور جنت کی زمین بھی جنت کی زمین کے تو تنہا وارث صالحین ہونا ظاہر ہے۔ دنیا کی پوری زمین کے وارث ہونا بھی ایک وقت میں مومنین صالحین کے لئے موعود ہے جس کی خبر قرآن کریم کی متعدد آیات میں دی گئی ہے۔ ایک آیت میں ہے، ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ  ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ، ایک دوسری آیت میں ہے وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ الآیة، تیسری ایک آیت میں اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ، مومنین صالحین کا دنیا کے معظم معمورہ پر قابض اور وارث ہونا ایک مرتبہ دنیا پہلے مشاہدہ کر چکی ہے اور زمانہ دراز تک یہ صورت قائم رہی اور پھر مہدی علیہ السلام کے زمانے میں ہونے والی ہے۔ (روح المعانی و ابن کثیر)

(سورہٗ انبیاء، ج۶، ص۲۳۱، مکتبہ معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں