بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سنتوں ميں فاتحہ كے بعد سورة چهوڑنے كا حكم


سوال

سنت نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے ہی نماز پوری ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نمازوں کی پہلی دورکعتوں اورسنن ونوافل کے تمام رکعتوں میں  مطلق قراءت کرنا فرض ہے جب کہ سورۃ الفاتحہ کے بعد تین چھوٹی آیات کے بقدر قراءت کرناواجب ہے؛لہٰذا اگر سورۃ الفاتحہ کی بعد والی قراءت سہواًچھوٹ جائےتوسجدہ سہو کرناضروری  ہوتا ہے،جس سے نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"(وواجبها) أي واجب الصلاة الذي لا يلزم فسادها بتركه وإنما يلزم الإثم إن كان عمدا وسجدتي السهو إن كان خطأ (قراءة الفاتحة) فلا تفسد الصلاة بتركها عندنا...(وضم) مقدار (سورة) من آية طويلة أو ثلاث آيات قصار إلى الفاتحة فلا تفسد الصلاة بتركها بل يجب سجود السهو إن تركها ساهيا كما تقرر آنفا."

(کتاب الصلوۃ، واجبات الصلوۃ، ج:1، ص:77، ط:المطبعة العامرة)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144509101682

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں