بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سنتوں کی قضا کا شرعی حکم


سوال

جس شخص کی فرض نماز سے پہلےکی سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا وہ ان کی قضا پڑھے گا؟

جواب

واضح رہےکہ سنت نماز  کی مستقل طور پر قضا نہیں ہے، یعنی سنت  سے متعلق عام ضابطہ یہی ہے کہ اس کی قضا  نہیں کی جائے گی،  البتہ نص کی وجہ سے   صرف فجر کی سنت  کی قضا اسی دن زوال سے پہلے تک اور ظہر  کی سنن قبلیہ کی قضا  ظہر کے فرض کے بعد ظہر کا وقت ختم ہونے سے پہلے تک کی جاتی ہے، اور دیکھا جائے تو یہ قضا نہیں ہے، کیوں کہ ظہر کے وقت کے اندر ہی ہے، اور اس کے علاوہ دیگر سنت نمازوں کی قضا  نہیں ہوتی۔

علامہ شامی اور دیگر فقہاء نے سنتوں کی قضاء  کے حکم سے متعلق یہ ضابطہ بیان فرمایا ہے کہ جن سنتوں کی قضا  کی جاتی ہے اُن سنتوں کی قضا  کرنا سنت ہے، یہی سنت نماز کی قضا  کا حکم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے : 

"(ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، 

(قوله: ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعاً لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع؛ لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل: هذا قريب من الاتفاق؛ لأن قوله: "أحب إلي" دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لا يقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية. ومنهم من حقق الخلاف وقال: الخلاف في أنه لو قضى كان نفلاً مبتدأً أو سنةً، كذا في العناية يعني نفلاً عندهما، سنةً عنده كما ذكره في الكافي إسماعيل".

(کتاب الصلوۃ،باب السنن  والنوافل ، ج:2، ص:57، ط:سعید)

وفیه ایضاً:

"(بخلاف سنة الظهر) وكذا الجمعة (فإنه) إن خاف فوت ركعة (يتركها) ويقتدي (ثم يأتي بها) على أنها سنة (في وقته) أي الظهر (قبل شفعه) عند محمد،وبه يفتى جوهرة

(قوله وبه يفتى) أقول: وعليه المتون، لكن رجح في الفتح تقديم الركعتين. قال في الإمداد: وفي فتاوى العتابي أنه المختار، وفي مبسوط شيخ الإسلام أنه الأصح لحديث عائشة «أنه - عليه الصلاة والسلام - كان إذا فاتته الأربع قبل الظهر يصليهن بعد الركعتين» وهو قول أبي حنيفة."

(كتاب الصلوة،باب إدراك الفريضة،ج:2،ص:59،ط:سعيد)

وفیه ایضاً:

"(وقضاء الفرض والواجب والسنة فرض وواجب وسنة) لف ونشر مرتب

(قوله وقضاء الفرض إلخ) لو ‌قدم ‌ذلك ‌أول ‌الباب ‌أو ‌آخره ‌عن ‌التفريع ‌الآتي لكان أنسب. وأيضا قوله والسنة يوهم العموم كالفرض والواجب وليس كذلك، فلو قال وما يقضى من السنة لرفع هذا الوهم رملي".

(‌‌‌‌كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:66،ط:دار الفكر - بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144508100957

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں