بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 محرم 1446ھ 21 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سنت موکدہ و غیر موکدہ کی ادائیگی میں فرق


سوال

چار رکعت سنت مؤکدہ کس طرح پڑھنی ہے،اور غیر مؤکدہ کس طرح پڑھنی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ سنتِ غیر مؤکدہ کی ادائیگی کا طریقہ وہی ہے جو سنتِ مؤکدہ کا ہے، دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، دونوں کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا اور اس کے ساتھ کوئی سورت یا تین مختصر آیات یا ایک طویل آیت پڑھنا واجب ہے۔

البتہ صرف اتنا فرق ہے کہ چار رکعات سنتِ غیر مؤکدہ میں ہر دو رکعت کی حیثیت  مستقل نماز کی ہوتی ہے، اس لیے اس میں افضل یہ ہے کہ دوسری رکعت کے قعدہ میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعا بھی پڑھی جائے، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوا جائے، اور تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء اور تعوذ و تسمیہ بھی پڑھ لیا جائے، لیکن یہ طریقہ افضل ہے، لازم نہیں، لہٰذا اگر کوئی سنتِ غیر مؤکدہ پڑھتے ہوئے سنتِ مؤکدہ کی طرح پہلے قعدہ میں صرف التحیات پڑھ کر کھڑا ہوجائے اور تیسری رکعت میں ثناء نہ پڑھے تو بھی اس کی نماز درست ہوجائے گی، جب کہ چار رکعت والی سنت مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں تشہد پڑھنے کے فورًا بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے، غلطی یا بھول سے درود شریف پڑھنے کی صورت میں قیام میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوجائے گا۔ اسی طرح سنت مؤکدہ میں ثناء بھی صرف پہلی رکعت میں ہی پڑھی جاتی ہے۔

الدر المختار مع رد الحتار میں ہے:

"(ولا يزيد) في الفرض (على التشهد في القعدة الأولى) إجماعا (فإن زاد عامدا كره) فتجب الإعادة (أو ساهيا وجب عليه سجود السهو إذا قال: اللهم صل على محمد) فقط (على المذهب) المفتى به لا لخصوص الصلاة بل لتأخير القيام۔۔۔

(قوله ولا يزيد في الفرض) أي وما ألحق به كالوتر والسنن الرواتب".

(كتاب الصلاة، فصل في بيان تاليف الصلاة الي انتهائها، 1/ 510، ط: سعید)

و فیہ ایضا:

"(ولا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القعدة الأولى في الأربع قبل الظهر والجمعة وبعدها) ولو صلى ناسيا فعليه السهو، وقيل: لا شمني (ولا يستفتح إذا قام إلى الثالثة منها) لأنها لتأكدها أشبهت الفريضة (وفي البواقي من ذوات الأربع يصلي على النبي) صلى الله عليه وسلم (ويستفتح) ويتعوذ ولو نذرا لأن كل شفع صلاة۔۔۔

(قوله لأن كل شفع صلاة) قدمنا بيان ذلك في أول بحث الواجبات، والمراد من بعض الأوجه كما يأتي قريبا (قوله وقيل لا إلخ) قال في البحر: ولا يخفى ما فيه والظاهر الأول. زاد في المنح ومن ثم عولنا عليه وحكينا ما في القنية بقيل".

 (کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، 2/ 16، ط: سعید)

و فیہ ایضا:

"(وتفرض القراءة) عملا (في ركعتي الفرض) مطلقا أما تعيين الأوليين فواجب على المشهور (وكل النفل) للمنفرد لأن كل شفع صلاة، لكنه لا يعم الرباعية المؤكدة، فتأمل۔۔۔

 على أن كون النفل كل شفع منه صلاة ليس على إطلاقه. بل من بعض الأوجه كما مر بيانه، وإلا لزم أن لا تصح رباعية بترك القعدة الأولى منها مع أن الاستحسان أنها تصح اعتبارا لها بالفرض خلافا لمحمد".

 (کتاب الصلاة، باب الوتر و النوافل، 2/ 29، ط: سعید)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144501101486

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں