بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سنتِ مؤکدہ کی نیت کیسے کریں؟


سوال

سنتِ مؤکدہ کی نیت کیسے ہو گی؟

جواب

نیت درحقیقت دل کے ارادے کا نام ہے، چاہے زبان سے تلفظ کیاجائے یا نہ کیاجائے ، البتہ زبان سے تلفظ مستحب ہے۔

سنت اور نوافل میں مطلقاً نما زکی نیت کرنا کافی ہے یعنی یہ کہ میں دو یا چاررکعات سنت ادا کرتا ہوں، اور اگر کوئی یہ کہے کہ فجر کی دو رکعت سنت مؤکدہ یا ظہر کی چاررکعات سنت مؤکدہ  اللہ کے واسطےادا کرتا ہوں یہ بھی درست ہے ۔ 

-رد المحتار - (3 / 297):
"( وكفى مطلق نية الصلاة ) وإن لم يقل لله ( لنفل وسنة ) راتبة ( وتراويح ) على المعتمد ، إذ تعيينها بوقوعها وقت الشروع ، والتعيين أحوط"۔

-العناية شرح الهداية - (1 / 432)
"قال ( وينوي الصلاة التي يدخل فيها بنية لا يفصل بينها وبين التحريمة بعمل ) والأصل فيه قوله عليه الصلاة والسلام { الأعمال بالنيات } ولأن ابتداء الصلاة بالقيام وهو متردد بين العادة والعبادة ولا يقع التمييز إلا بالنية ، والمتقدم على التكبير كالقائم عنده إذا لم يوجد ما يقطعه وهو عمل لا يليق بالصلاة ولا معتبر بالمتأخرة منها عنه لأن ما مضى لا يقع عبادة لعدم النية ، وفي الصوم جوزت للضرورة ، والنية هي الإرادة ، والشرط أن يعلم بقلبه أي صلاة يصلي .أما الذكر باللسان فلا معتبر به ، ويحسن ذلك لاجتماع عزيمته .ثم إن كانت الصلاة نفلا يكفيه مطلق النية ، وكذا إن كانت سنة في الصحيح "۔

-(فتاوی دارالعلوم دیوبند 4/161)فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144109201398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں