بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1441ھ- 10 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

سنت نماز کی قضا کا حکم


سوال

اگر سنت چھوٹ جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

سنت نماز  کی مستقل طور پر قضا نہیں ہے، البتہ فجر کی سنتوں کی تاکید کی وجہ سے یہ حکم ہے کہ جس دن فجر  کی سنتیں تنہا یا فجر کی فرض نماز کے ساتھ رہ جائیں تو اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سے لے کر اسی دن زوال کے وقت تک فجر کی سنتیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر نمازوں کی سنتوں کی وقت گزرنے کے بعد قضا نہیں ہے، ظہر یا جمعہ کی فرض نماز سے پہلے سنتِ مؤکدہ اگر کسی عذر کی وجہ سے رہ جائیں تو فرض نماز کی ادائیگی کے بعد ظہر کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے پڑھ لینی چاہییں۔ نیز یہ بھی ملحوظ رہے کہ بلاعذر سنتِ مؤکدہ کے ترک کا معمول بنالینا گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200881

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں