بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

سنت اعتکاف ادا کرنے والا ایک شخص تھا اور اس کا بھی اعتکاف ٹوٹ جائے تو سنیت ادا ہوگی یا نہیں؟


سوال

اگر کسی بستی میں ایک مسجد ہے، اور ایک ہی شخص اعتکاف کے لیے بیٹھا ہو ،پھر دورانِ اعتکاف کسی عذر کی وجہ سے اعتکاف ٹوٹ جاۓ ،تو کیا بستی کی طرف سے سنتِ کفایہ ادا ہو جاۓگا؟

جواب

واضح رہے کہ اعتکاف سنت کفایہ ہے ،اور سنت کفایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر پورے محلہ کی طرف سے ایک شخص بھی اس کو ادا کرلے تو سب کی طرف  سے کافی  ہے،اور کوئی بھی گناہ گار نہیں ہوگا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص جب اعتکاف کی نیت سے بیٹھا تو  اس کے بیٹھنے کی وجہ سے سب پر سے نہ بیٹھنے کا گناہ ساقط ہوگیا،اب اگر اس کا اعتکاف عذر کی وجہ سے ٹوٹ جاتاہے ،تو صرف اس کی قضا لازم ہوگی،کوئی گناہ گار نہ ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وسنة مؤكدة في العشر الأخير من رمضان) أي سنة كفاية.

وفي الرد:(قوله أي سنة كفاية) نظيرها إقامة التراويح بالجماعة فإذا قام بها البعض سقط الطلب عن الباقين فلم يأثموا بالمواظبة على ترك بلا عذر، ولو كان سنة عين لأثموا بترك السنة المؤكدة إثما دون إثم ترك الواجب."

(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج:2، ص:422، ط:سعید)

وفیہ ایضا:

"وعلى ‌كل ‌فيظهر ‌من ‌بحث ‌ابن ‌الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج على قول أبي يوسف أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده لاستقلال كل يوم بنفسه".

(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج:2، ص:445، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100730

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں