بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

سنن ابن ماجه ميں موجود ایک حدیث کا مصداق محارم ہیں


سوال

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو روز قیامت تہامہ پہاڑوں کے برابر چمکتی نیکیاں لے کر آئیں گے ، لیکن اللہ تعالی انہیں ذروں میں اڑا دےگا۔ ثوبان رضی اللہ نے عرض کیا:  اے اللہ کے رسول! ہمیں ان لوگوں کی صفات بتائیں،  کہیں ہم لا علمی میں ان جیسے نہ ہوجائیں۔  آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے ہی بھائی اور تمہاری قوم سے ہوں گے، جیسے تم رات کو عبادت کرتے ہو وہ بھی گریں گے لیکن وہ جب تنہائی میں ہوں گے تو اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کریں گے۔" (سنن ابن ماجہ: 4245) ۔

اگر دیکھا جائے تو ایسے گناہ ہم سب سے سردز ہوتے ہیں، مثلا میں رات میں چھپ سگریٹ کر پیتا ہوں، جس کا گھر والوں کو علم نہیں۔ تو کیا ایسا کرنا بھی اس حدیث کے زمرے میں داخل ہوگا؟کیا اس کی وجہ سے تمام نیکیاں ضائع ہوجائیں گیں؟

جواب

مذکورہ حدیث سنن ابن ماجه ،المعجم الصغير، المعجم الأوسط اور مسند الروياني میں موجود ہے۔ سنن ابن ماجہ میں ہے:

"عن ثوبان رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لأعلمن أقواما من أمتي يأتون يوم القيامة بحسنات أمثال جبال تهامة بيضا، فيجعلها الله عز وجل هباء منثورا" قال ثوبان: يا رسول الله، صفهم لنا، جلهم لنا، أن لا نكون منهم ونحن لا نعلم. قال: "أما إنهم إخوانكم، ومن جلدتكم، ويأخذون من الليل كما تأخذون، ولكنهم أقوام إذا خلوا بمحارم الله انتهكوها"

(سنن ابن ماجه، أبواب الزهد، باب ذكر الزهد، ج: 5 ،ص: 317، رقم: 4254، ط: دار الرسالة العالمية)

سندی حکم:

علامہ بوصیری نے اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:"یہ اسناد صحیح ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں"۔

"هذا إسناد صحيح رجاله ثقات. وأبو عامر الألهاني اسمه عبد الله بن غابر."

(مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجة، ج: 4، ص: 246، ط: دار العربية بيروت)

یہاں یہ  بات  سمجھنے کی ہے کہ سگریٹ کا استعمال عام حالات میں مکروہِ تنزیہی ہے،  ایسا حلال بھی نہیں جیسے کھانا پینا، اور ایسا حرام بھی نہیں جیسے شراب وغیرہ۔ البتہ سگریٹ اور بیڑی منہ میں بدبو کا باعث ہونے کی وجہ سے  شرعی اعتبار سے  مکروہ و ناپسندیدہ  اور طبی اعتبار سے  جسم کے لیے نقصان دہ ہے۔

فتاوی رشیدیہ میں ہے:

’’سوال: حقہ پینا، تمباکو کا کھانا یا سونگھنا کیسا ہے؟ حرام ہے یا مکروہ تحریمہ یا مکروہ تنزیہہ ہے؟ اور تمباکو فروش اور نیچے بند کے گھر کا کھانا کیسا ہے؟

جواب: حقہ پینا، تمباکو کھانا مکروہِ تنزیہی ہے اگر بو آوے، ورنہ کچھ حرج نہیں اور تمباکو فروش کا مال حلال ہے، ضیافت بھی اس کے گھر کھانا درست ہے‘‘۔

( کتاب جواز اور حرمت کے مسائل، ص: 552، ط: ادراہ صدائے دیوبند)

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: وألف في حله أيضاً سيدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالة سماها الصلح بين الإخوان في إباحة شرب الدخان وتعرض له في كثير من تآليفه الحسان وأقام الطامة الكبرى على القائل بالحرمة أو بالكراهة فإنهما حكمان شرعيان لا بد لهما من دليل ولا دليل على ذلك فإنه لم يثبت إسكاره ولا تفتيره ولا إضراره بل ثبت له منافع فهو داخل تحت قاعدة الأصل في الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لايلزم منه تحريمه على كل أحد فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي".

(حاشية رد المحتار على الدر المختار کتاب الأشربة،ج:6 ص:459 ط:ایچ ایم سعید)

مذکورہ دلائل سے معلوم ہوتا ہےکہ سگریٹ اور بیڑی وغیرہ پینا شرعی لحاظ سے حرام نہیں، البتہ کراہت کی بنا پر اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 سوال میں مذکور حدیث کا مصداق وہ اشیاء ہیں جن پر شریعت کی طرف سے نہی وارد ہوئی ہے اور شریعت نے اسے حرام قرار دیا ہے، لہذا  سگریٹ پینا  اس حدیث کا مصداق نہیں بنے گا۔

فقظ واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144506101084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں