بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

شوگر کے مریض نے قربانی سے پہلے ناخن کاٹ لیے


سوال

 شوگر کا مریض قربانی سے پہلے اپنے ناخن کاٹ لے تو کیا  قربانی ہو جائے گی؟

جواب

جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو اس کے لیے ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر قربانی کا جانور ذبح کرنے تک بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب ہے، فرض یا واجب نہیں، پس اگر کوئی کاٹ لیتا ہے تو اس عمل سے  اس کی قربانی پر کوئی اثر نہ ہوگا، البتہ استحباب کے ثواب سے محروم رہے گا، نیز اگر کسی شخص کو ناخن اور بال تراشے چالیس دن مکمل ہو رہے ہوں تو ایسے شخص کے لیے ناخن اور بال صاف کرنا ضروری ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مریض اگر ناخن کاٹ لیتا ہے، تب بھی اس کی قربانی درست ہوجائے گی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"مَطْلَبٌ فِي إزَالَةِ الشَّعْرِ وَالظُّفُرِ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ

[خَاتِمَةٌ] قَالَ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ: وَفِي الْمُضْمَرَاتِ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ فِي تَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الرَّأْسِ فِي الْعَشْرِ أَيْ عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ قَالَ لَا تُؤَخَّرُ السُّنَّةُ وَقَدْ وَرَدَ ذَلِكَ وَلَا يَجِبُ التَّأْخِيرُ اهـ وَمِمَّا وَرَدَ فِي صَحِيحِ مُسْلِمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «إذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ بَعْضُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذَنَّ شَعْرًا وَلَا يُقَلِّمَنَّ ظُفُرًا» فَهَذَا مَحْمُولٌ عَلَى النَّدْبِ دُونَ الْوُجُوبِ بِالْإِجْمَاعِ، فَظَهَرَ قَوْلُهُ: وَلَا يَجِبُ التَّأْخِيرُ إلَّا أَنَّ نَفْيَ الْوُجُوبِ لَا يُنَافِي الِاسْتِحْبَابَ فَيَكُونُ مُسْتَحَبًّا إلَّا إنْ اسْتَلْزَمَ الزِّيَادَةَ عَلَى وَقْتِ إبَاحَةِ التَّأْخِيرِ وَنِهَايَتُهُ مَا دُونَ الْأَرْبَعِينَ فَلَا يُبَاحُ فَوْقَهَا. قَالَ فِي الْقُنْيَةِ: الْأَفْضَلُ أَنْ يُقَلِّمَ أَظْفَارَهُ وَيَقُصَّ شَارِبَهُ وَيَحْلِقَ عَانَتَهُ وَيُنَظِّفَ بَدَنَهُ بِالِاغْتِسَالِ فِي كُلِّ أُسْبُوعٍ، وَإِلَّا فَفِي كُلِّ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا، وَلَا عُذْرَ فِي تَرْكِهِ وَرَاءَ الْأَرْبَعِينَ وَيَسْتَحِقُّ الْوَعِيدَ فَالْأَوَّلُ أَفْضَلُ وَالثَّانِي الْأَوْسَطُ وَالْأَرْبَعُونَ الْأَبْعَدُ اهـ".( كتابالصلاة، باب العيدين، ۲/ ۱۸۱، ط: دار الفكر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200389

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں