بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سود پر قرض لینے کی ایک صورت کا حکم


سوال

ایسے ادھار کا کیا حکم ہے جس میں آپ کسی سے قرض لیتے ہیں اور اگر آپ اس کو ایک سال کے اندر واپس دیتے ہیں تو کوئی سود نہیں ہوگا، ہاں ایک سال کے بعد سود جمع ہونا شروع ہو جائے گا۔

جواب

چونکہ سود پر قرض لینا دینا شرعا جائز نہیں ہے، لہذا مذکورہ صورت اختیار کرنا جائز نہیں۔ ایک سال کے بعد سود لگنے کی شرط خلاف شریعت اور گناہ ہے اور اگر ایک سال کے اندر قرض ادا کردیتے تب بھی دونوں فریق گناہ گار ہوں گے کیونکہ ایک ناجائز شرط پر دونوں پارٹیاں راضی ہوگئی تھیں۔واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143512200039

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں