بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سود کی ممانعت قرآن وحدیث کی رُو سے!


سوال

سود کے بارے میں وضاحت فرمادیں قرآن و حدیث کی روشنی میں!

جواب

سود کو عربی زبان میں "ربا" کہتے ہیں، جس کا لغوی معنی ہے: بڑھنا، اضافہ ہونا، بلندہونا۔

اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے:

 " قرض دے کر اس پر مشروط اضافہ یا نفع لینا یا کیلی (ناپ کر بیچی جانے والی) یا وزنی (تول کر بیچی جانے والی) چیز کے تبادلے میں دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کو ایسی زیادتی کا ملنا جو عوض سے خالی ہو اور عقد میں مشروط ہو۔"

مثلاً: رقم کے   عوض رقم لینا، جیسے سو روپے کسی کو قرض دیا، اور دیتے وقت یہ شرط لگائی کہ سو سے زائد مثلًا دوسوروپے دینے ہوں گے، یا قرض دے کر اس سے مزید کوئی فائدہ لینا۔

بلاشبہ سود اسلام میں قطعی طور پر حرام ہے، کیوں کہ یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری، حرص و طمع، خود غرضی، شقاوت و سنگ دلی، مفاد پرستی، جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں، بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا ذریعہ بھی ہے، اسی وجہ سے قرآنِ مجید میں سود سے منع کیاگیا ہے:

"اے ایمان والو سود مت کھاؤ (یعنی مت لو اصل سے) کئی حصے زائد (کرکے) اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہو۔"

(سورۃ آلِ عمران، رقم الآیۃ:130، ترجمہ:بیان القرآن)  

نیز شریعتِ مطہرہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے، بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دینے کے ساتھ مختلف وعیدوں کو بھی ذکر کیا، جیسے کہ قرآنِ مجید میں ہے:

 "اور جو لوگ سود کھاتے ہیں نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے) مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شحص جس کو شیطان خبطی بنا دے لپٹ کر (یعنی حیران و مدہوش)، یہ سزا اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے، حال آں کہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے (لینا) ہوچکا ہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی) معاملہ اس کا خدا کے حوالہ رہا اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ دوزخ میں جاویں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔"

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:275، ترجمہ:بیان القرآن)

سود کی وجہ سے اگرچہ بظاہر مال میں اضافہ ہوتا ہے، لیکن درحقیقت وہ مال میں نقصان، بےبرکتی، اور ناگہانی آفات کا باعث ہوتا ہے، جیسے کہ قرآنِ مجید میں ہے:

 "اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتے ہیں اور صدقات کو بڑھاتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتے کسی کفر کرنے والے کو ( اور) کسی گناہ کے کام کرنے والے کو۔"

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:276، ترجمہ:بیان القرآن)

اِن ہی باطنی نقصانات اور مختلف معاشی تباہ کاریوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نےسود سے بچنے کا حکم دیا ہے، قرآن مجید میں ہے:

 "اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔"

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:278، ترجمہ:بیان القرآن)

اور جو لوگ اس ممانعت کے باوجود بھی سود جیسے قبیح عمل کرتے ہیں تو ان کے اس عمل پر قہر وغضب کے اظہار کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو اللہ اور ان کے رسولﷺ کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے، قرآن مجید میں ہے:

" پھر اگر تم (اس پر عمل) نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے (یعنی تم پر جہاد ہوگا) اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جاویں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر کوئی ظلم کرنے پائے گا۔"

(سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ:279، ترجمہ:بیان القرآن)  

آپﷺ نے سود کو ہلاکت خیز عمل قرار دیا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سات ہلاک کرنے والی باتوں سے دور رہو۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ وہ کون سی باتیں ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور جادو کرنا اور اس جان کو ناحق مارنا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے اور سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور جہاد سے فرار (یعنی بھاگنا) اور پاک دامن بھولی بھالی مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔"

(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالی ان الذین یاکلون اموال الیتامی، رقم الحدیث:2766، ج:2، ص:242، ط:المکتب الاسلامی)

جس بستی میں سود ہوتا ہے وہ بستی سود کی وجہ سے ہلاک و برباد ہوجاتی ہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جائے، اللہ تعالیٰ اس بستی والوں کو ہلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔"

(کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الثانی عشرۃ، ص:69، ط:دار الکتب العلمیۃ)

سود سے پاگل پن پھیلتا ہے، حدیث شریف میں ہے:

"آپﷺ نے فرمایا: جس قوم میں سود پھیلتا ہے، اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔"

(کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ الثانی عشرۃ، ص:70، ط:دار الکتب العلمیۃ)

سود خور سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: جس شب مجھے (معراج میں) سیر کرائی گئی، میں ایک جماعت کے پاس سے گزرا جس کے پیٹ کمروں کے مانند تھے، ان میں بہت سے سانپ پیٹوں کے باہر سے دکھائی دے رہے تھے، میں نے کہا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟  کہنے لگے کہ سود خور ہیں۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2273، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

سود کرنے کا گناہ ماں سے زنا کرنے کے گناہ سے بھی بدتر ہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: سود میں ستر گناہ ہیں، سب سے ہلکا گناہ ایسے ہے، جیسے مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2274، ج:2، ص:763، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

سودی کھاتہ لکھنے اور اس پر گواہ بننے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسکی گواہی دینے والے اور اس کا معاملہ لکھنے والے سب پر لعنت فرمائی۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2277، ج:2، ص:764، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

ملحوظ رہے آج کل معاشرے میں سود کی مختلف تمویلی صورتیں مختلف ناموں سے رائج ہیں، شرعی اَحکام سے نا واقف آدمی کسی نہ کسی درجہ میں ان میں مبتلا ہوجاتاہے، حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئےگا، کہ کوئی بھی ایسا نہ رہے گا جس نے سود نہ کھایا ہو اور جو سود نہ کھائے، اسے بھی سود کا غبار لگےگا۔"

(سنن ابن ماجہ، کتاب التجارۃ، باب التغلیظ فی الربا، رقم الحدیث:2278، ج:2، ص:764، ط:داراحیاءالکتب العربیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201151

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں