بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

صبح اٹھ کر ہاتھ دھونا


سوال

کیا صبح اٹھ کر ہاتھ نہ دھونے سے گناہ ہوتا ہے ؟

جواب

نبی کریم ﷺنے نیند سے بیدار ہوکر کسی برتن میں ہاتھ ڈالنے سے قبل ہاتھ دھونے کا حکم فرمایا ہے اور علماء اس حدیث کی روشنی میں نیند سے بیدار ہوکر ہاتھ دھونے کو مسنون قرار دیاہے،وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ رات کو ہاتھ جسم میں کسی ایسی جگہ لگا ہو جہاں نجاست کا اثر ہو اور وہ اثر ہاتھ کولگ چکا ہو،البتہ نیند سے بیدار ہوکر ہاتھ نہ دھونے سے آدمی گناہ گار نہیں ہوگا۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے :

"وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " إذا استيقظ أحدكم من نومه فلا يغمس يده في الإناء حتى يغسلها فإنه لا يدري أين باتت يده ".

(مشکوۃ المصابیح، ص:45،ط:قدیمی)

ترجمہ :"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جب تم میں سے کوئی آدمی سو کر اٹھے تو (اسے چاہئے کہ) اپنے ہاتھ کو پانی کے برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے (پہنچوں تک) تین بار دھو نہ لے، اس لئے کہ اسے نہیں معلوم کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔"

مذکورہ روایت کی شرح میں شارِح مشکوۃ علامہ نواب قطب الدین خان دہلویؒ لکھتے ہیں :

’’ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وضو سے پہلے ہاتھوں کو دھونا سنت ہے، جہاں تک سو کر اٹھنے کے بعد کی قید کا سوال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں پانی کی قلت ہوتی ہے ، خاص طور پر زمانۂ نبوت میں تو پانی بہت ہی کم مقدار میں دستیاب ہوتا تھا، اس لئے اکثر و بیشتر لوگ پانی سے استنجاء نہیں کرتے تھے پہلے ڈھیلوں سے یا پتھروں سے صاف کر لیا کرتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ گرم ہوا کی بنا پر سوتے میں استنجاء کے مقام پر پسینہ آجاتا ہے، اس صورت میں یہ احتمال ہوتا ہے کہ رات میں سوتے وقت ہاتھ استنجاء کے مقام پر پہنچ جائے جس سے ہاتھ گندے ہو جائیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سونے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا ہاتھ رات کو سوتے وقت کہاں رہا،  اس  لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جب کوئی آدمی سو کر اٹھے تو چاہئے کہ وہ پہلے اپنے ہاتھوں کو پانی کے برتن میں نہ ڈال دے، بلکہ ہاتھ تین مرتبہ دھو ڈالے، تاکہ وہ پاک و صاف ہو جائیں ،اس کے بعد برتن سے پانی لے کر وضو کر لے، بہر حال یہاں نیند کی قید تو اس لیے ہے کہ اس میں ہاتھوں کو نجاست لگنے کا احتمال ہے، ورنہ ہر ایک وضو کرنے والے کو پہلے تین مرتبہ ہاتھ دھونا چاہیے، اس لیے کہ علماء لکھتے ہیں کہ اس طرح ہاتھ دھونا اس آدمی کے لیے بھی سنت ہے جو سو کر نہ اٹھا ہو، کیوں کہ ہاتھ دھونے کا سبب یعنی ہاتھ کو نجاست و میل لگنے کا احتمال جاگنے کی حالت میں بھی موجود ہے،ہاتھ دھونے کا یہ حکم فرض اور واجب نہیں ہے ،بلکہ مسنون کے درجہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم احتیاط کے طور پر دیا ہے، اگر کوئی آدمی ہاتھ نہ دھوئے تو بھی وہ پاک ہے کہ اگر بغیر دھوئے ہاتھ پانی میں ڈال دے تو اس سے پانی ناپاک و نجس نہیں ہوتا، کیوں کہ سوتے میں ہاتھ کا ناپاک ہونا یقینی نہیں ہے بلکہ احتمال کے درجہ کی چیز ہے ۔‘‘(مظاہر حق)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144403101310

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں