بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

بے خبری میں صبح صادق کے بعد سحری کی


سوال

کسی شخص نے نیند سے اٹھنے میں دیر کردی اور اسے خبر بھی نہیں ، پھر اس نے سحری کھالی، بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے صبح صادق کے ایک گھنٹہ بعد کھاناکھایاہے، اب اس شخص کا روزہ ہوگا یا نہیں؟ یہ شخص پورے دن کیاکرے گاکھائے گا یا نہیں ؟روزہ کا کیا حکم ہے ؟

 

جواب

واضح رہے کہ صبح صادق سے پہلے تک سحری کھانے کی اجازت ہے اور صبح صادق کے بعد کھانے پینے والے  کی نیتِ روزہ شرعاً درست نہیں ہوتی، اگرکوئی شخص لاعلمی میں صبح صادق کے بعد سحری کرتا ہے جب کہ سحری کا وقت ختم ہوچکا ہے تو ایسے شخص کا روزہ نہیں ہوگا۔اب  اس کے ذمہ اس روزے کی  بعد میں قضا کرنا لازم ہے، البتہ کفارہ نہیں ہے۔

ایسے شخص کے لیے بقیہ دن میں کھانے پینے کی اجازت نہیں، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ رمضان المبارک کے احترام  میں روزے داروں کی مشابہت اختیار کرے اور افطار تک کھانے پینے سے اجتناب کرے ۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق - (2 / 311):
"وأشار المصنف بالمسألتين إلى أصل وهو أن كل من صار في آخر النهار بصفة لو كان في أول النهار عليها للزمه الصوم فعليه الإمساك كالحائض والنفساء تطهر بعد طلوع الفجر أو معه والمجنون يفيق والمريض يبرأ والمسافر يقدم بعد الزوال أو الأكل  والذي أفطر عمدا أو خطأ أو مكرها أو أكل يوم الشك ثم استبان أنه من رمضان أو أفطر وهو يرى أن الشمس قد غربت أو تسحر بعد الفجر ولم يعلم ومن لم يكن على تلك الصفة لم يجب الإمساك كما في حالة الحيض والنفاس".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (4 / 257):
"ولو تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع فإذا هو طالع أو أفطر على ظن أن الشمس قد غربت فإذا هي لم تغرب فعليه القضاء ولا كفارة لأنه لم يفطر متعمدًا بل خاطئًا ألا ترى أنه لا إثم عليه ".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (4 / 273):
"أو تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع ثم تبين له أنه طلع فإنه يجب عليه الإمساك في بقية اليوم تشبها بالصائمين ،وهذا عندنا".
الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (2 / 405):
"( أو تسحر أو أفطر يظن اليوم ) أي الوقت الذي أكل فيه ( ليلاً و ) الحال أن ( الفجر طالع والشمس لم تغرب ) لف ونشر ويكفي الشك في الأولدون الثاني عملاً بالأصل فيهما ولو لم يتبين الحال لم يقض في ظاهر الرواية والمسألة تتفرع إلى ستة وثلاثين محلها المطولات ( قضى ) في الصور كلها ( فقط )". فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144109202028

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں