بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

صبح صادق اور فجر کی اذان


سوال

روزہ کے لیے صبح صادق اور عام صبح کی اذان میں کتنے منٹ کا وقت ہوتا ہے؟

جواب

 فجر کا وقت صبحِ  صادق کے تحقق کے ساتھ ہوتا ہے، یہی وقت روزہ بند کرنے کا ہے اور صبحِ  صادق اس سفیدی کو کہا جاتا ہے جو مشرق کی جانب، سورج طلوع ہونے سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پہلے آسمان کے کنارے پر چوڑائی میں یعنی شمالاً و جنوباً دکھائی دیتی ہے، اور جلد ہی پورے آسمان پر پھیل جاتی ہے، اس سے فجر کا وقت شروع ہوتا ہے، اور رزوہ رکھنے والوں پر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے، اور اس گھڑی کے ساتھ ہی نوافل ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ 

صبح صادق سے پہلے ایک اور سفیدی آسمان کے درمیان میں ایک ستون کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، اسے صبحِ  کاذب کہا جاتا ہے، اس روشنی کے ظاہر ہونے پر نہ فجر کا وقت داخل ہوتا ہے اور نہ روزہ رکھنے کا ارادہ کرنے والوں پر کھانا پینا حرام ہوتا ہے اور نہ ہی نوافل ادا کرنا ممنوع ہوتا ہے۔

باقی عام دنوں میں بھی فجر کے داخل ہونے کا وقت یہی ہوتا ہے، لیکن رمضان کے علاوہ ایام میں فجر کی نماز قدرے روشنی ہونے کے بعد ادا کرنا مستحب ہے، کیوں کہ یہ جماعت کی تکثیر کا سبب ہے، لہذا مساجد میں فجر کی اذان کا اہتمام اول وقت میں اس طرح نہیں ہوتا جس طرح رمضان میں ہوتا ہے، پھر ہر مسجد کا معمول اس سلسلے میں مختلف ہوتا ہے، عموماً ہر مسجد کی جماعت کے وقت سے بیس منٹ سے لے کر آدھا گھنٹہ پہلے تک اذانِ فجر دی جاتی ہے، بہر حال اذان کے وقت کی تعیین نہیں کی جا سکتی۔

آپ کو سال کے باقی دنوں میں سحری کا آخری وقت معلوم کرنا ہو تو کسی مستند کلینڈر سے استفادہ کرلیں، مثلاً پروفیسر عبد اللطیف صاحب مرحوم کا مرتبہ نوشی دائمی اوقاتِ نماز، یا ہماری ویب سائٹ پر نمازوں کے اوقات کے سیکشن میں مطلوبہ شہر درج کرکے وقت معلوم کرلیجیے۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(مِنْ) أَوَّلِ (طُلُوعِ الْفَجْرِ الثَّانِي) وَهُوَ الْبَيَاضُ الْمُنْتَشِرُ الْمُسْتَطِيرُ لَا الْمُسْتَطِيلُ (إلَى) قُبَيْلِ (طُلُوعِ ذُكَاءَ) بِالضَّمِّ غَيْرُ مُنْصَرِفٍ اسْمُ الشَّمْسِ (قَوْلُهُ: وَهُوَ الْبَيَاضُ إلَخْ) لِحَدِيثِ مُسْلِمٍ وَالتِّرْمِذِيِّ وَاللَّفْظُ لَهُ «لَا يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيلُ وَلَكِنْ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ» " فَالْمُعْتَبَرُ الْفَجْرُ الصَّادِقُ وَهُوَ الْفَجْرُ الْمُسْتَطِيرُ فِي الْأُفُقِ: أَيْ الَّذِي يَنْتَشِرُ ضَوْءُهُ فِي أَطْرَافِ السَّمَاءِ لَا الْكَاذِبُ وَهُوَ الْمُسْتَطِيلُ الَّذِي يَبْدُو طَوِيلًا فِي السَّمَاءِ كَذَنَبِ السِّرْحَانِ أَيْ الذِّئْبِ ثُمَّ يَعْقُبُهُ ظُلْمَةٌ". ( ١/ ٣٥٩)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144110200620

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں