بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

سب سے پہلے رمضان کی خبر لوگوں کو دینے کی من گھڑت فضیلت کی تحقیق


سوال

 جو بھی رمضان کی خبر سب سے پہلے دے اس کے لیے جہنم کی آگ حرام ہے ۔ 

کیا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے؟

جواب

رمضان کی سب سے پہلے دوسروں کو اطلاع دینے سے متعلق جو فضیلت عوام میں مشہور ہے کہ ”جس نے سب سے پہلے رمضان المبارک کی اطلاع دی اس کو جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے يا جهنم كي آگ اس پر حرام ہے “ یہ  بات کسی بھی صحیح بلکہ ضعیف اور موضوع  حدیث میں بھی نہیں ملتی، اس لیے  اس کی نسبت  رسول اللہ  ﷺ کی طرف کرنا درست نہیں ہے،  اس طرح کے پیغامات دوسروں  کو ہرگز اِرسال نہ  کیے جائیں، رسول اللہ  ﷺ کی طرف کسی بات کو غلط منسوب کرنا یعنی جو بات آپ ﷺ نے نہیں فرمائی ، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے،سخت گناہ ہے۔ اسی  کی وعید سے متعلق کی  صحيح احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیے: 

"قال أنس: إنه ليمنعني أن أحدثكم حديثاً كثيراً أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من تعمد علي كذباً، فليتبوأ مقعده من النار» ... عن سلمة، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «من يقل علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار»".

صحیح حدیث کا مفہوم ہےکہ  جس نے مجھ پر جان کر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔اسی طرح ایک روایت میں ہےکہ جو میری طرف ایسی بات کی نسبت کرے جو میں نے نہیں کہی اس کو چاہیے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔

(صحيح البخاري، باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم (1/ 33) برقم (108 و109 )، ط/ دار طوق النجاة) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100388

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں