بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

حدیث ’’اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ کلام یہ ہے کہ کوئی کسی سے کہے: کہ اللہ سے ڈرو! اور وہ جواب دے کہ تم اپنی فکر کرو‘‘ کا حوالہ وتحقیق


سوال

"اللہ کے نزدیک سب سے ناپسندیدہ کلام یہ ہے کہ کوئی کسی سے کہے : کہ اللہ سے ڈرو اور وہ جواب دے کہ تم اپنی فکر کرو"۔ کیا یہ حدیث ہے؟ 

جواب

مذکورہ روایت   حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے  دو طرح مروی ہے ،  تفصیل درج ذیل  ہے: 

  مرفوع روایت :

امام نسائي  رحمہ اللہ(المتوفى: 303ھ)  کی ’’ السنن الکبری ‘‘ میں ہے: 

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ» أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَإِنَّ أَبْغَضَ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: اتَّقِ اللَّهَ، فَيَقُولَ: عَلَيْكَ بِنَفْسِكَ."

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب کلام یہ ہے کہ بندہ کہے: اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیرا مرتبہ بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ کلام یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے: اللہ سے ڈر جا، اور وہ آگے سے جواب دے تو اپنی فکر کر۔“

(السنن الكبرى، ذكر اختلاف الناقلين لخبر سمرة في ذلك (9/ 313) برقم (10619)، ط/ مؤسسة الرسالة - بيروت)

تخريج:

(1) أخرجه االنسائي (المتوفى: 303ه) في عمل اليوم والليلة (ص: 488) برقم (848)، ط/ مؤسسة الرسالة - بيروت. 

(2) والبيهقي (المتوفى: 458ه) في الدعوات الكبير، باب الحث على الذكر والتسبيح والتكبير والتهليل والتحميد والاستغفار (1/ 231) برقم (156)، ط/ غراس للنشر والتوزيع - الكويت.

(3) والبيهقي في شعب الإيمان (2/ 142) برقم (621)، ط/ مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض. 

 موقوف روايت : 

امام نسائي رحمه الله (المتوفى: 303ھ) کی ’’السنن الکبری‘‘ میں ہے : 

عن عبد الله، قال: " إن من أكبر الذنوب عند الله أن يقال للعبد: اتق الله فيقول: عليك نفسك، وإن من أحسن الكلام أن يقول: سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك، رب إني عملت سوءا وظلمت نفسي، فاغفر لي."

(السنن الكبرى، ذكر اختلاف الناقلين لخبر سمرة في ذلك (9/ 314) برقم (10622)، ط/ مؤسسة الرسالة - بيروت)

تخريج:

(1)  أخرجه ابن جرير الضبي (المتوفى: 195هـ) في الدعاء (ص: 285) برقم (106)، ط/ مكتبة الرشد - الرياض.

(2) وهَنَّاد بن السَّرِي  (المتوفى: 243هـ) في الزهد، باب التوبة والاستغفار، (2/ 463)، ط/ دار الخلفاء للكتاب الإسلامي - الكويت. 

(3) واالنسائي (المتوفى: 303ه) في عمل اليوم والليلة (ص: 489) برقم (852)، ط/ مؤسسة الرسالة - بيروت.

(4) والطبراني (المتوفى: 360هـ) في المعجم الكبير (9/ 113) برقم (8587)، ط/ مكتبة ابن تيمية - القاهرة. 

(5) والبيهقي (المتوفى: 458ه) في شعب الإيمان (10/ 510) برقم (7896) مختصرا، ط/ مكتبة الرشد للنشر والتوزيع بالرياض. 

حکمِ حدیث: 

علامہ ہیثمی رحمہ اللہ (المتوفى: 807ھ) طبرانی رحمہ اللہ کی روایت کردہ حدیث موقوف  (إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الذَّنْبِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِأَخِيهِ: اتَّقِ اللهَ، فَيَقُولُ: عَلَيْكَ نَفْسَكَ، أَنْتَ تَأْمُرُنِي؟)سے متعلق فرماتے ہیں :

 "رواه الطبراني، ورجاله رجال الصحيح."

يعني کہ اسے طبرانی سے روایت کیاہے، اور اس کے رُوات صحیح کے رُوات ہیں ۔

(مجمع الزوائد، باب فيمن يؤمر بالمعروف فلا يقبل(7/ 271) برقم (12162 )، ط/ مكتبة القدسي، القاهرة)

عام طور پر صحابی حدیث کی روایت کرتے وقت روایت کی نسبت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں ، جسے ’’حدیثِ مرفوع‘‘  کہا جاتا ہے، لیکن اگر  حدیث روایت کرتے وقت صحابی نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت نہ کی ہو، بلکہ خود سے اس کو روایت کیا ہو اس حدیث کو ’’حدیثِ موقوف‘‘  کہا جاتا ہے، حدیثِ موقوف اصطلاح کے اعتبار سے تو جدا نام رکھتی ہے، لیکن خلافِ قیاس امور (یعنی عبادات و اعمال اور عقائد و امورِ آخرت وغیرہ) میں حدیثِ موقوف بھی حدیثِ مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے۔

مرفوع کی اسی قسم سے متعلق  علامه سيوطي رحمه الله(المتوفى: 911ھـ) نے فرماتے ہیں : 

"من المرفوع أيضاً ما جاء عن الصحابي، ومثله لايقال من قبل الرأي، ولا مجال للاجتهاد فيه فيحمل على السماع."

"يعني   مرفوع كي ايك قسم يه بھی ہے کہ  جوبات  صحابی سے مروی ہو  ، اور اس طرح کی بات رائے  سے نہ کی جاسکتی ہو، اور اس میں اجتہاد کی گنجائش بھی نہ ہو ، تو بس پھر اسے سماع پر محمول کیا جائے گا۔"  

(تدريب الراوى، النوع السابع الموقوف (1/ 212)، ط/ دار طيبة)

مذكوره  تفصیل سے معلوم ہوا کہ جب کوئی   بات  کرتے وقت صحابی نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت نہ کی ہو، اور اس طرح کی بات رائے  سے بھی نہ کی جاسکتی ہو، اورنہ ہی  اس میں اجتہاد کی کوئی گنجائش  ہو ، تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا سمجھا   جائے گا،   یہاں مذکورہ روایت  میں تو بعینہ وہیصحابی اسی موقوف  روایت کو  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی نقل فرما رہے ہیں، لہذا یہ موقوف روایت بظاہر  مرفوع کے حکم میں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504100916

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں