بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ بینک میں ملازمت کا حکم


سوال

 میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاب کرتا ہوں۔ کیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جاب کرنا درست ہے یا نہیں کیوں کہ یہ ایک مرکزی بینک کی حثیت رکھتا ہے اور بیت المال کا کردار ادا کرتا ہے۔ 

جواب

 صورتِ مسئولہ  میں   اسٹیٹ بینک کے تمام ملازمین کو سودی رقم اور سودی آمدنی ہی سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اسی بنا پر اس کے غیر سودی شعبہ   میں بھی کام کرنا جائز نہیں ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَأَحَلَّ اللّه الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا۔"(البقرة)

ترجمہ:"حالانکہ اللہ تعالیٰ نے  بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے"۔(بیان القرآن)

حدیث شریف میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: هم ‌سواء."

(کتاب المساقاۃ، باب لعن آكل الربا ومؤكله، (219/3) ط: دار احیاء التراث العربی)

ترجمہ:" حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے،کھلانے والے،سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس پر گواہ بننے والے پر لعنت بھیجی ہے،اور فرمایا : یہ سب(گناہ میں) برابر ہیں."  

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101255

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں