بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

سحری سے پہلے ناک میں کیے گئے سپرے کا اثر حلق میں محسوس ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا


سوال

میں سحری سے پہلے ناک میں اسپرے کرتا ہوں،  جس کی وجہ سے بعد میں اس کا ذائقہ حلق میں کچھ دیر کے لیے محسوس ہوتا ہے،  تو اب مجھے کیا حکم ہے اور اس کی وجہ سے روزے کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں اور اگر اسپرے نہ کروں تو کافی تکلیف کا سبب ہے؟

جواب

سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے اگر سپرے کر لیا تو بعد میں اس کا ذائقہ محسوس ہونے سے روزہ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن چونکہ یہ مستقل معمول ہے اس لیےبہتر یہ ہے سحری کا وقت ختم سے اتنا فاصلہ رکھا جائے  کہ ذائقہ ختم ہوجائے،یا  کوئی چیز ایسی کھا لی جائے جس سے حلق سے ذائقہ ختم ہوجائے۔

"فتح القدیر" میں ہے:

"ولو أكل لحما بين أسنانه فإن كان قليلا لم يفطر وإن كان كثيرا يفطر) وقال زفر: يفطر في الوجهين لأن الفمله حكم الظاهر حتى لا يفسد صومه بالمضمضة. ولنا أن القليل تابع لأسنانه بمنزلة ريقه بخلاف الكثير لأنه لا يبقى فيما بين الأسنان، والفاصل مقدار الحمصة وما دونها قليل
(قوله: ولنا أن القليل تابع لأسنانه بمنزلة ريقه) كما لا يفسد بالريق، وإنما اعتبرنا تابعا لأنه لا يمكن الامتناع عن بقاء أثر ما من المآكل حوالي الأسنان وإن قل، ثم يجري مع الريق التابع من محله إلى الحلق، فامتنع تعليق الإفطار بعينه فيعلق بالكثير وهو ما يفسد الصلاة لأنه اعتبر كثيرا في فصل الصلاة، ومن المشايخ من جعل الفاصل كون ذلك مما يحتاج في ابتلاعه إلى الاستعانة بالريق أو لا. الأول قليل، والثاني كثير، وهو حسن لأن المانع من الحكم بالإفطار بعد تحقق الوصول كونه لا يسهل الاحتراز عنه، وذلك فيما يجري بنفسه مع الريق إلى الجوف لا فيما يتعمد في إدخاله لأنه غير مضطر فيه (قوله ثم أكله ينبغي أن يفسد) المتبادر من لفظة أكله المضغ والابتلاع أو الأعم من ذلك."

(‌‌‌‌كتاب الصوم، باب ما يوجب القضاء والكفارة، 2/ 336 ، 337، ط: دار الکتب العلمیۃبیروت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144509101057

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں