بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

ایس آر اے / SRA ارننگ ایپ پر پیسے کمانا/کاروبار کرنا جائز نہیں


سوال

ایک ارننگ ایپ ہے جس کا نام ایس آر اے /SRA ہے، اس میں روزانہ سو ڈالر انویسٹ کیے جاتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کمپنی کے مختلف آئیٹمز کی مشہوری کی جاتی ہے، جس کی بناء پر روزانہ دو سے چار ڈالر دیے جاتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟

دوسرا اس کمپنی کو جوائن کرنے والے کے لنک سے اگر کوئی اور بندہ جوائن کرے تو  اُس کو کمپنی دس ڈالر دیتی ہے، کیا یہ جائز ہے؟

جواب

مذکورہ ایپ کی ویب سائٹ پر موجود مواد سے جو معلومات حاصل ہوئیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ:

’’ SRA(سیل رینکنگ اسسٹنٹ /Sales Ranking Assistant)‘‘ ایک ویب سائٹ اور موبائل اپلیکیشن ہے جس میں خود کو رجسٹر کروانے والے کے اکاؤنٹ میں فوراً ہی 7 سے 10 ڈالر آجاتے ہیں،لیکن اکاونٹ ہولڈر اس وقت اس رقم کو نکال نہیں سکتا، بلکہ اسے اپنے اکاؤنٹ میں کچھ رقم مثلاً 100 ڈالر ڈلوانے ہوتے ہیں اس کے بعد اس اکاؤنٹ ہولڈر کو روزانہ کی بنیاد پر ایک مقررہ تعداد میں(مثلاً 10)  آڈر موصول ہوتے ہیں جن پر فقط کلک کرنے سے فی آرڈر اس کے اکاؤنٹ میں ایک معمولی رقم (مثلاً0.2ڈالر) جمع ہوجاتی ہے، اس طرح  100 ڈالر انویسٹ کرنے کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر  یومیہ اس ویب سائٹ پر2 ڈالر کما سکتا ہے، روزانہ ملنے والے آرڈرز کی تعداد اور ہر آرڈر پر حاصل ہونے والے نفع کی مقدار اکاؤنٹ ہولڈر کی طرف سے جمع کی گئی رقم کے مطابق ہوتی ہے، یعنی اگر اس نے 100 ڈالر انویسٹ کیے تو وہ روزانہ آرڈرز پر کلک کر کے 2 ڈالر کما سکتا ہے اور اگر 200 ڈالر انویسٹ کیے تو روزانہ 4 ڈالر کما سکتا ہے،مجموعی نفع کی رقم  اس کے اکاؤنٹ میں جمع رہتی ہے اور اکاونٹ ہولڈر اسے نکال بھی سکتا ہے جس پر ویب سایٹ کچھ سروس چارجز لیتی ہے۔اگر اکاؤنٹ ہولڈر کی دعوت پر کسی نئے شخص نے نیا اکاؤنٹ کھول کر اس پر کچھ رقم انویسٹ کی تو اس سے پہلے اکاؤنٹ ہولڈر کو invitation reward کے نام سے بونس کی رقم ملتی ہے۔

SRA کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانے یا اس سے رقم نکلوانے کے لیے ضروری ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈرUSDTنامی اسٹیبل کوائن کو استعمال کرے جو کرپٹو کرنسی کی ایک قسم ہے۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں  آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ SRA ویب سائٹ پر انویسٹمنٹ کر کے نفع حاصل کرنا مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے:

1۔ مذکورہ ویب سائٹ میں انویسٹمنٹ پر نفع حاصل کرنے کے شرعی طریقہ کے مطابق انویسٹ کی گئی رقم کو کسی نفع بخش کاروبار میں لگا کر اس سے حاصل ہونے والا نفع اکاؤنٹ ہولڈر کو نہیں دیا جاتا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر دیے جانے والے آرڈر پر صرف کلک کرنے سے اکاؤنٹ ہولڈر کا نفع وجود میں آتا ہے۔

2۔ آرڈر یا ایڈز پر کلک کرنا کوئی ایسا مفید عمل نہیں ہے کہ اس کے بدلے معاوضہ دیا جائے، اس عمل کی وجہ سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔  کلک کر کے پیسہ کمانے کے بارے میں مزید تفصیل اس لنک پر ملاحظہ کیجیے: (مختلف ویب سائٹ میں ایڈ پر کلک کرکے پیسے کمانا)

3۔ انویسٹ کی گئی رقم ناقابلِ واپسی ہوتی ہےجو شرعاً ناجائز ہے  بلکہ شرعی طریقہ یہ ہے کہ انویسٹر کو معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کی پوری رقم اس کے حصے کے نفع سمیت لوٹا دی جائے۔

4۔ مذکورہ معاملہ قمار یعنی جوے کے مشابہ ہے کیوں کہ روزانہ پابندی کے ساتھ آرڈرز پر کلک کرنے سے انویسٹر کواس کی لگائی گئی رقم مزید اضافہ کے ساتھ واپس بھی مل سکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو اس کی لگائی ہوئی رقم بھی نہ ملے تو یہ معاملہ نفع و نقصان کے درمیان دائر ہوگیا جسے شرعی اصطلاح میں قمار کہتے ہیں۔

5۔ اکاؤنٹ میں USDT نامی اسٹیبل کوائن   (کرپٹو کرنسی کی ایک قسم )ہی کے ذریعہ رقم نکالی یا جمع کروائی جاسکتی ہے اور کرپٹو کرنسی کی خریدو فروخت بوجہ مال نہ ہونے کے بیعِ باطل اور حرام ہے۔

لہذا مذکورہ ویب سائٹ اور اس کی موبائل ایپ پر انویسٹمنٹ کر کے پیسے کمانا جائز نہیں ہے، تاہم جو شخص اس میں 200 ڈالر کی رقم جمع کروادے اس كےلیے اپنی اصل رقم کے بقدر رقم نکلوانے کی اجازت ہے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے۔

نیز شریعت میں محنت کر کے کمانے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، اپنے ہاتھ کی کمائی کو افضل کمائی قرار دیا گیا ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت مقدام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکسی نے کبھی کوئی کھانا اس سے بہتر نہیں کھایا کہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے کما کے کھائے۔ اور اللہ کے پیغمبر داود علیہ السلام اپنے ہاتھوں سے کام کر کے کھاتے تھے۔ اسی طرح مسند احمد میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ حضرت کونسی کمائی زیادہ پاک اور اچھی ہے آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرنا اور ہر تجارت جو پاکبازی کے ساتھ ہو۔ 

صحیح بخاری میں ہے:

"حدثنا ‌إبراهيم بن موسى: أخبرنا ‌عيسى، عن ‌ثور، عن ‌خالد بن معدان، عن ‌المقدام رضي الله عنه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ما أكل أحد طعاما قط، خيرا من أن يأكل من عمل يده، وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يده»".

(‌‌‌‌كتاب البيوع، باب كسب الرجل وعمله بيده، ج:3، ص:57، رقم الحدیث:2072، ط:السلطانية)

مسنداحمد میں ہے:

"حدثنا يزيد، حدثنا المسعودي، عن وائل أبي بكر، عن عباية بن رفاعة بن رافع بن خديج، عن جده رافع بن خديج، قال: قيل: يا رسول الله، أي الكسب أطيب؟ قال: " عمل الرجل بيده ‌وكل ‌بيع ‌مبرور".

(‌‌‌‌مسند الشاميين، حديث رافع بن خديج، ج:28، ص:502، رقم الحدیث:17265، ط:الرسالة)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"قوله تعالى:"وإن تبتم فلكم رؤس أموالكم"الآية. روى أبو داود عن سليمان بن عمرو عن أبيه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع:" ألا إن كل ربا من ربا الجاهلية. موضوع فلكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون" وذكر الحديث. فردهم تعالى مع التوبة إلى رؤوس أموالهم وقال لهم:" لا تظلمون" في أخذ الربا" ولا تظلمون" في أن يتمسك بشيء من رؤوس أموالكم فتذهب أموالكم".

(سورة البقرة، ج:3، ص:365، ط:دار الكتب المصرية)

احكام القرآن للجصاص میں ہے:

"وروى حماد بن سلمة عن قتادة عن حلاس أن رجلا قال لرجل إن أكلت كذا وكذا بيضة فلك كذا وكذا فارتفعا إلى علي فقال هذا قمار ولم يجزه ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة".

(‌‌سورة البقرة، باب تحريم الميسر، ج:2، ص:11، ط:دار إحياء التراث العربي)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

"(لا) تصح إجارة الدابة (ليجنبها) أي ليجعلها جنيبة بين يديه (ولا يركبها ولا) تصح إجارتها أيضا (ل) أجل أن (يربطها على باب داره ليراها الناس) فيقولوا له فرس (أو) لأجل أن (يزين بيته) أو حانوته (بالثوب) لما قدمنا أن هذه منفعة غير مقصودة من العين، وإن فسدت فلا أجر؛ وكذا لو استأجر بيتا ليصلي فيه أو طيبا ليشمه أو كتابا ولو شعرا ليقرأه أو مصحفا شرح وهبانية".

(‌‌حاشية ابن عابدين، كتاب الإجارة، باب ما يجوز من الإجارة، ج:6، ص:34، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102008

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں