بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ربیع الثانی 1443ھ 29 نومبر 2021 ء

دارالافتاء

 

سودی اداروں سے کاروبار کرنا


سوال

سودی اداروں سے کاروبار کا کیا حکم ہے؟

جواب

 سود کا لینا، دینا  اور اس میں تعاون کرنا ناجائز اور حرام ہے، اس پر قرآن وحدیث میں بہت سخت  وعیدیں وارد ہوئی ہیں، سودی لین دین کرنے والوں سے  اللہ اور اس  رسول کی طرف جنگ کا اعلان ہے، ایسے شخص کو آپ ﷺ نے ملعون قرار دیا ہے،  لہذا سودی کاروبار کرنے والے اداروں کے ساتھ سودی کاروبار کرنا حرام ہے، اور سودی اداروں کے   ساتھ  حلال اشیاء کا کاروبار اگرچہ فی نفسہ ناجائز نہیں ہے، لیکن کراہت  سے بھی خالی نہیں ہے، بالخصوص جب کہ مستقل بنیاد پر ان کے ساتھ کاروباری معاملات کیے  جائیں، اس  لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حدیثِ  مبارک  میں ہے:

"عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه» . وقال: «هم سواء»."

(الصحیح لمسلم، 3/1219، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ط: دار إحیاء التراث ، بیروت. مشکاة المصابیح،  باب الربوا، ص: 243، قدیمی)

ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ  روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200712

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں