
کیا سوتیلے سسر سے پردہ فرض ہے ؟اگر ہے تو مجھے حکمت سے سمجھا دیں کہ میں اپنی بیوی کو شرعی پردہ کیسے کرواوں ؟کیونکہ میری والدہ اور ساس سسر اور باقی رشتہ دار مجھ سے بہت ناراض ہیں کہ میری بیوی اپنےسوتیلے سسر سے پردہ کیوں کرتی ہے، یہ بھی کہتے ہیں کہ دل صاف ہونا چاہیے پردہ تو دل کا ہوتا ہے ،تم اس پردے سے سب کو ناراض کررہے ہو، یہ بھی تو گناہ ہے، اور میری بیوی بھی پردہ کرنا چاہتی ہے ، مجھے کیا کرنا چاہیے؟
واضح رہے کہ غیر محرم دو طرح کےہیں:
(1) غیر محرم جو رشتہ دار نہ ہو، اس سے بوجہ مصلحت و دفعِ فتنہ چہرے کا پردہ کرنا واجب ہے۔
(2) غیر محرم جو رشتہ دار ہو، جیسے چچازاد، ماموں زاد ، سوتیلا سسر وغیرہ، اس سے عورت کے لیے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے جسم کا پردہ واجب ہے۔
اگرآپ اپنی اہلیہ سے پردے کا اہتمام کرواتے ہیں اور وہ خود بھی یہ اہتمام کرنا چاہتی ہے تو یہ عمل شریعت کے مطابق قابلِ ستائش اور حوصلہ افزا ہے، اور اسی پر آپ کو کاربند رہنا چاہیے اور آپ کی والدہ اور سسرال والوں کو شریعت کے احکام جاننے اور سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس سلسلے میں آپ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔
البتہ غیر محرم رشتہ داروں سےچہرے کے پردے کے سلسلے میں شدت نہیں کرنی چاہیے،اس میں شرعی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے عمل کرنا چاہیے، اس لیے کہ اس نوعیت کے پردے میں تخفیف ہے، تاہم بے حیائی میں واقع ہونے اور فتنے میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کے لیےجانبین کو احتیاطی تدابیر اختیارکرلینی چاہییں، مثلًا: سوتیلا سسر وغیرہ گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دے،گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی وغیرہ بجادے یا بلند آواز سے سلام کرے،دونوں جانب سے نگاہوں کی حفاظت ہو، خواتین دوپٹے یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں، نیز بے تکلفانہ گفتگو، تنہائی میں ملاقات اور غیر ضروری اختلاط سے گریز کریں ، لیکن اگر فتنے کا خوف ہو تو ان سےبھی چہرے کا پردہ واجب ہوگا۔
روح المعانی میں ہے:
"وأخرج ابن أبي شيبة وعبد بن حميد عن ابن عباس أنه قال في قوله تعالى: إلا ما ظهر منها رقعة الوجه وباطن الكف، وأخرجا عن ابن عمر أنه قال: الوجه والكفان."
(سورۃ النور، ج:9، ص:335، ط:دار الكتب العلمية)
مسند احمد میں ہے :
" عن علي رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال : لا طاعة لمخلوق في معصية الله عز وجل."
(الجزء الثاني، ج:2، ص:333، ط:مؤسسة الرسالة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وللحرة جميع بدنها خلا الوجه و الكفين و القدمين على المعتد وصوتها على الراجح وقال الشامي قوله على الراجح عبارة البحر عن الحلية أنه الاشبه وفي النهر وهو الذي ينبغي عليه اعتماده الى قوله فانا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحارمتهن عند الحاجة الى ذلك، ولا نجيز لهن رفع اصواتهن ولا تمطيطها و لا تليينها و تقطيعها ، لما في ذلك من استمالة الرجال اليهن وتحريك الشهوات منهن، ومن هذا لم يجز أن يؤذن المرأة ".
(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 1، ص: 406، ط: دار الفكر)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"يجوز النظر إلى مواضع الزينة الظاهرة منهن وذلك الوجه والكف في ظاهر الرواية."
(كتاب الكراهية، الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له، ج:5، ص:329، ط:رشيدية)
امداد الفتاوی میں مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
" سوال (۲۲۰): پردہ کی نسبت کیا حکم ہے، آیا پردہ فرض ہے یا واجب ہے یا کیا؟
الجواب: پردہ کے دو معنی ہیں، ایک ستر دوسرے حجاب، ستر تو فرض ہے، تفصیل اس کی یہ ہے کہ مرد کو مرد کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے مگر ناف سے زانو (گھٹنے) تک جائز نہیں، اور عورت کو عورت کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے۔ اور اپنی مملوکہ حلال شرعی اور اپنی زوجہ کا سارا بدن دیکھنا جائز ہے، اور اپنے محارم سے منھ اور سر اور سینہ اور پنڈلیاں اور دونوں بازو دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے۔اور ان کی پشت (پیٹھ) اور شکم (پیٹ) دیکھنا جائز نہیں، اور غیر مملوکہ کا بھی اتنا ہی بدن دیکھنا جائز ہے، اور اجنبی آزاد عورت کا کچھ دیکھنا جائز نہیں، مگر ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، اور اگر شہوت کا خوف ہو تو بغیر حاجتِ ضروری شرعی کے دیکھنا جائز نہیں، ہاں اگر حاجت ہو جیسے حاکم حکم کرتے وقت اور گواہ کو شہادت کے وقت تو چہرہ دیکھنا جائز ہے، اور طبیب کو مرض کا موضع (مقام) دیکھنا جائز ہے اگرچہ لوگوں کو خوفِ شہوت کا ہو، باقی حتی الوسع شہوت کو دل سے دور کرے۔۔۔
دوسرا حجاب ہے جو آج کل شرفاء میں معمول ہے، کہ عورت مردِ اجنبی کو بالکل بدن نہیں دکھاتی، اور غالباً غرض سائل کی اسی کا پوچھنا ہے، پس یہ جناب رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات پر تو فرض تھا، لقوله تعالیٰ: "وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ" ولِقوله تعالیٰ: "وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ" اور مؤمنینِ اُمت کی عورتوں پر فرض نہیں، چنانچہ روایتِ بالا سے معلوم ہو چکا کہ اجنبی عورت کا چہرہ اور ہتھیلیاں دیکھنا بشرطِ امنِ شہوت جائز ہے، البتہ یہ حجاب سنت اور واجبِ استحسانی ہے، اور بہ نظرِ مصلحت و رفعِ شر و فتنہ ضروری ہے۔۔۔
(عورتوں کے پردے اور نظر ولمس وغیرہ کے احکام ،ج:4،ص:177، 178ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144408102568
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن